کتاب: مقالات حدیث - صفحہ 579
[1]
[1] حضرت عبداللہ بن مبارک، حضرت معن بن عیسیٰ اور جوزجانی وغیرہ ان دونوں سے بہت خفا تھے اور لوگوں سے کہتے تھے:
’’أفسد حديث أهل الكوفة أبو إسحاق السبيعي و أعمشكم هذا‘‘ (ميزان الاعتدال: 1/423)
افسوس یہ ہے کہ رجال کے بارے میں مولانا اتنے غیر محتاط، کتر بیونت کے عادی اور معنوی تحریف کے حامل ہیں کہ اس کو دیکھ کر افسوس ہوتا ہے۔
میزان الاعتدال (1/345) میں جوزجانی کا مقولہ اس طرح مرقوم ہے:
’’قال أبو إسحاق الجوزجاني، كعوائده في فظاظة عبارته: كان من أهل الكوفة قوم لا يحمد الناس مذاهبهم، هم رؤوس محدثي أهل الكوفة، مثل أبي إسحق و منصور و زبيد اليامي والأعمش وغيرهم، من أقرانهم، احتملهم الناس لصدق ألسنتهم في الحديث، وتوقفوا عند ما أرسلوا‘‘
ناظرین خط کشیدہ عبارت پر خصوصیت سے غور کریں۔ صاحب میزان کہتے ہیں کہ جوزجانی اپنی سخت عادت کے ماتحت ایسے الفاظ کہہ رہے ہیں۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ آیا جوزجانی کی یہ جرح کس حد تک قابل قبول ہے؟ سو اس کے لیے حافظ ابن حجر صاحب لسان الميزان کا مندرجہ ذیل بیان ملاحظہ فرمائیے:
’’ومما ينبغي أن يتوقف في قبول قوله في الجرح من كان بينه و بين من جرحه عداوة، سببها الاختلاف في الاعتقاد، فإن الحاذق إذا تأمل ثلب أبي اسحاق الجوزجاني لأهل الكوفة، رأي العجب، وذلك لشدة انحرافه في النصب، وشهرة أهلها بالتشيع، فتراه لا يتوقف في جرح من ذكره منهم بلسان ذلقة، و عبارة طلقة، حتي إنه أخذ يلين مثل الأعمش و أبي نعيم و عبيداللّٰه بن موسيٰ ۔۔الخ‘‘ (لسان الميزان: 1/16)
’’یعنی ایسے شخص کی جرح سے احتراز کرنا چاہیے، جو بوجہ عداوت کے ہو۔ سمجھدار آدمی جب جوزجانی کی اہل کوفہ کے متعلق جرح اور مثالب دیکھے گا، تو تعجب کرے گا، کیونکہ اس کو بوجہ ناصبی ہونے کے ان سے ایک طرح کی کد تھی، لہٰذا وہ اس کد کی بنا پر محدثین کوفہ کو مورد جرح ٹھہراتا۔‘‘
دوسرا حوالہ مولانا نے ’’ميزان الاعتدال‘‘ (1/423) کا دیا ہے۔ میزان کی اصل عبارت ملاحظہ ہو:
’’قال الجوزجاني: قال وهب بن زمعة المروزي: سمعت ابن المبارك يقول: أفسد حديث أهل الكوفة أبو إسحاق والأعمش لكم‘‘
اس جگہ بھی وہ جوزجانی ہے، جو اپنے مطلب کے لیے عبداللہ بن مبارک کا قول پیش کر رہا ہے، حالانکہ ابن المبارک کا مقصد وہ نہیں ہے جس کو مولانا تمنا سمجھ رہے ہیں اور یوں تشہیر کر رہے ہیں۔ اصل چیز جو اعمش اور سبیعی میں ہے،