کتاب: مقالات حدیث - صفحہ 578
[1]
[1] یہ زہری پر خفگی اور ناراضگی صرف اس لیے ہے کہ وہ جمع القرآن کی روایت کے راوی ہیں۔
سوال یہ ہے کہ جب وہ باب ہی اصل بخاری میں نہیں، تو پھر روایتوں پر جرح سے کیا فائدہ؟ ياللعجب!
(3) فرماتے ہیں: ’’خیر القرون کی مدت حضرت فاروق اعظم کے بعد ختم ہو جاتی ہے۔‘‘ (صفحہ: 30)
اور حدیث ((خَيْرُ الْقُرُوْنِ قَرْنِي ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ)) پیش کی ہے اور پھر اس کو کھینچ تان کر پہلا قرن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اور دوسرا قرن صدیق اکبر اور تیسرا قرن فاروق اعظم کا ثابت کیا ہے۔
سوال یہ ہے کہ اگر اس حدیث کا، جس کو آپ نے پیش کیا ہے، راوی ابن شہاب زہری ہو، جو رطب و یابس کو بغیر چوں و چرا کے لکھ لیتا ہے، تو پھر دیانت یہی کہتی ہے کہ جمع قرآن والی حدیث کی طرح اس کو بھی چھوڑ دیجئے اور پھر اسی پر بس نہ کیجیے، بلکہ کھل کر اور صاف واضح الفاظ میں یوں فرمائیے کہ جس حدیث کو زہری بیان کرے، اس کو ہم پیش نہ کریں گے۔
(4) فرماتے ہیں: ’’زہری کے ہزاروں شاگرد تھے، امام مالک، عمر بن عبدالعزیز، عمرو بن دینار، صالح بن کیسان، اوزاعی، ابن ابی ذئب، ابن عیینہ وغیرہم۔‘‘ (صفحہ: 38)
میں پوچھتا ہوں کہ امام مالک وغیرہ اصحاب جو آپ نے ذکر کیے ہیں، انہوں نے زہری کو کیوں نہ چھوڑ دیا؟ حالانکہ وہ بقول آپ کے رطب و یابس کو بغیر چوں و چرا کے لکھ لیتا تھا۔ معلوم ہوا کہ، نعوذ باللہ، وہ بھی سب اس سازش میں شریک تھے، لہٰذا نتیجہ یہ نکلا کہ زہری پر کیا منحصر ہے، اس کے شاگرد بھی جو روایت کریں، چھوڑ دیجئے، معاملہ صاف ہے۔
آہستہ خرام بلکہ مخرام
زیر قدمت ہزار جان ست ٭
جرح پر نظر اور تعدیل سے انحراف:
جرح و تعدیل ایسا فن ہے جس میں جرأت، دیانت، احتیاط اور عدل و انصاف کی سخت ضرورت ہے۔ مولانا تمنا نے دیانت کا وعدہ تو کیا ہے، لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اسے ایفاء نہیں کیا۔ یعنی جرح کے پہلو کو تو لیا ہے، مگر تعدیل کو چھوا تک نہیں اور جرح بھی ایسے رنگ میں پیش کی ہے، جس میں احتیاط اور عدل کا دامن ہاتھ سے چھوٹ چھوٹ گیا ہے۔
فرماتے ہیں: ’’دونوں (سبیعی، اعمش) نے مل کر باہمی مشورے سے (غالباً) کچھ ایسے ایجنٹ پیدا کر لیے تھے، جو صرف انہی دونوں سے حدیثیں لے لے کر خراسان، نیشاپور، طبرستان اور شام و عراق و مصر کے دیہاتوں میں جا جا کر پھیلایا کرتے تھے۔‘‘ (ص: 27)
اور اس الزام پر میزان الاعتدال کا حوالہ پیش فرمایا ہے۔ ملاحظہ ہو:
٭آہستہ چل بلکہ نہ چل، تیرے قدم تلے ہزار جان ہے!