کتاب: مقالات حدیث - صفحہ 577
[1]
[1] ---اصطلاحی معنی‘‘ پر مشتمل ہے۔ ہر صاحب علم کو حق حاصل ہے کہ دیانت سے اپنی رائے کا اظہار کرے۔ مولانا تمنا صاحب نے شروع میں اگرچہ وعدہ فرمایا ہے اور آخر میں بیان کیا ہے کہ میرا یہ مضمون صرف احقاق حق کے لیے ہے، مثلاً وہ ’’البيان‘‘ (ص: 19) میں فرماتے ہیں:
’’میری غرض کسی مناظرے کا سلسلہ جاری کرنا نہیں، صرف احقاق حق مراد ہے اور بس‘‘
آخری صفحہ (47) میں فرماتے ہیں:
’’میں نے جو کچھ عرض کیا ہے، محض دیانتاً عرض کیا ہے اور وہی لکھا ہےجس کو دیانتاً حق سمجھتا ہوں۔‘‘
لیکن افسوس ہے کہ مولانا نے اپنے مضمون میں بہت جگہ مغالطہ دہی سے کام لیا ہے، جیسا کہ ناظرین آگے ملاحظہ فرمائیں گے۔
مضمون کا عنوان ’’ظن کے اصطلاحی معنی‘‘ ہے، جو چودہ ورقوں اور اٹھائیس صفحوں پر پھیلا ہوا ہے، جس میں اصل مبحث کے حصہ میں صرف گیارہ صفحے ہی آتے ہیں۔ باقی سترہ صفحے حدیثوں پر تنقید، تابعین پر پھبتیاں، ائمہ محدثین کی تنقیص اور قراءِ امت پر استہزاء کرنے میں صرف ہوئے ہیں۔
’’ظن کے اصطلاحی معنی‘‘ کے متعلق مولانا اسماعیل صاحب وضاحت سے روشنی ڈال چکے ہیں۔ علم الرجال کے متعلق تمنا صاحب نے جو غلط فہمیاں پیدا کی ہیں، ان پر چند سطریں لکھنا چاہتا ہوں۔
مولانا تمنا کے دعاویٰ اور خود ساختہ کلیات:
مولانا تمنا صاحب نے چند دعوے کیے ہیں، جن کو ان کی ’’کلیات‘‘ کہنا بجا ہو گا۔
(1) فرماتے ہیں: ’’مجھے یقین ہے کہ امام بخاری کی کتاب میں ’’باب جمع القرآن‘‘ والا پورا باب ہی داخل کر دیا گیا ہے۔‘‘ (البيان، ص: 23)
مطلب صاف ہے کہ صحیح بخاری میں ’’باب جمع القرآن‘‘ میں جو حدیثیں مذکور ہیں، وہ اصل بخاری میں موجود نہیں تھیں۔ امام بخاری رحمہ اللہ کے بعد کسی نے فریب سے لکھ دیں۔ نعوذ باللّٰه من ذلك!
اس کا جواب یہی ہو سکتا ہے کہ مولانا اس اصل نسخہ کا پتہ بتائیں، جس میں یہ باب موجود نہیں ہے۔ آخر کہیں دنیا کے کسی کتب خانے میں تو وہ موجود ہو گا، یا کسی محدث کی تصریح نقل کریں، جس میں اس باب کے الحاقی ہونے کا ذکر ہو۔ صرف دعوؤں کو کون مانتا ہے؟
(2) فرماتے ہیں: ’’خدا بھلا کرے ابن شہاب زہری کا، جنہوں نے جمع احادیث کا کام شروع کر کے ربوبیت کبریٰ کے منشا فیض کی تکمیل کی داغ بیل ڈال دی۔‘‘ (البيان، ص: 20)
’’عبید بن سباق سے روایت کرنے والے بہتیرے تھے، مگر عبید نے جمع قرآن کی روایت صرف زہری سے بیان کی، اس لیے کہ یہ ہر رطب و یابس روایت کو لکھ لیتے اور کوئی چوں و چرا نہیں کرتے تھے۔‘‘ (صفحہ: 28)