کتاب: مقالات حدیث - صفحہ 576
بزرگوں پر اتہام لگایا ہے۔ خدا آپ کو معاف فرما دے! فن حدیث میں تین چیزیں ازبس ضروری ہیں: جرأت، انصاف، احتیاط۔ آپ کا مقالہ پڑھنے کے بعد مجھے یہ اجازت دیجیے کہ آپ میں یہ تینوں ناپید ہیں، اس لیے آپ نئے اصول حدیث اور اصول تنقید وضع کرنے کی کوشش نہ فرمائیں۔ جریر بن عبدالحمید، اعمش کے شاگرد ہیں۔ ان کے متعلق بھی مشہور ہے کہ مغیرہ بن مقسم عن ابراہیم سے انہوں نے طلاق اخرس کے متعلق حدیث بنائی۔ (ميزان الاعتدال: 1/183) [1]لیکن ثقات محدثین کی توثیق کے بعد اس قسم کی جرحیں کوئی حقیقت نہیں رکھتیں۔ احادیث کی گنتی: موجودہ کتب احادیث میں چند ہزار احادیث پائی جاتی ہیں، یہ بلحاظ رجال صحابہ کوئی بڑا عدد نہیں۔ اگر ان کتب میں وضع و تخلیق کو دخل ہوتا، تو احادیث اور روایت کا عدد اس سے کہیں زیادہ ہوتا۔ [2] مولانا کے مقالہ کے ابھی کئی گوشے قابل توجہ ہیں، لیکن گزارشات بہت طویل ہو گئی ہیں۔ اب اسے ختم کرتا ہوں، اگر ضرورت ہوئی تو مکرر رونق محفل کی سعی ہو گی، والسلام۔ [3]
[1] ان کی طرف وضع حدیث کا انتساب درست نہیں، کیونکہ انہوں نے صرف کسی مجہول آدمی سے وہ روایت بیان کی تھی۔ دیکھیں: تاريخ بغداد (7/260) ميزان الاعتدال (2/120) مزید برآں اس قصے کو نقل کرنے والا راوی ’’سليمان بن داود الشاذكوني‘‘ جھوٹا اور متروک ہے۔ دیکھیں: الجرح والتعديل (4/114) لسان الميزان (3/84) الكشف الحثيث عمن رمي بوضع الحديث (ص: 129) [2] صحابہ کرام اور احادیث نبویہ کی عمومی تعداد کے متعلق تفصیل کے لیے دیکھیں: بحوث في تاريخ السنة المشرفة (ص: 373) [3] مؤلف رحمہ اللہ نے تمنا عمادی کے مضمون میں مذکور زیادہ تر ظن کے مفہوم کے متعلق اشکالات و اعتراضات کا جائزہ لیا تھا، لیکن تمنا عمادی کے تنقیدی مضمون میں علم حدیث اور اسماء الرجال کے متعلق بھی کئی جگہ بے جا تنقید اور اعتراضات مرقوم تھے، جن کا جواب مولانا عبداللہ لائل پوری رحمہ اللہ نے انہی دنوں لکھا تھا، جو ’’الاعتصام‘‘ میں اشاعت پذیر ہوا۔ مذکورہ مضمون کی افادیت کے پیش نظر اسے ذیل میں درج کیا جا رہا ہے۔ ’’مولانا تمنا کے مضمون پر ایک اور تعاقب‘‘ مولانا تمنا صاحب عمادی نے رسالہ ’’البيان‘‘ جنوری 50ء میں مولانا محمد اسماعیل صاحب گوجرانوالہ کے ایک مقالہ پر تنقیدی بحث کی ہے۔ جہاں تک مولانا اسماعیل صاحب کے مضمون کا تعلق ہے، وہ صرف ’’ظن کے ---