کتاب: مقالات حدیث - صفحہ 574
مشغلہ قریباً تیرہ سو سے کچھ زیادہ صحابہ فرماتے تھے۔ ان میں اصحابِ افتاء اور محدث قریباً تین صد حضرات تھے۔ [1] ایک اچھے معاشرہ میں جہاں شب و روز علم و تقویٰ کے چرچے ہوں اور نظام حکومت علم و دیانت کی حوصلہ افزائی کرتا ہو، وہاں یہ تعداد بالکل مناسب ہے۔ وضع و تخلیق کی اس میں کوئی گنجائش نہیں۔ اگر مولانا محترم ظن کی گرفت سے کچھ آزاد ہو کر مسئلہ پر غور فرمائیں، تو زمانہ تابعین میں بے شک فسادات ہوئے، سیاسی جھوٹ کو چرچا بھی رہا، لیکن حدیث سازی کی کوئی باقاعدہ ایجنسی نہ تھی، جیسے آپ کے ذہن میں سما چکا ہے۔ اعمش رحمہ اللہ اور ابو اسحاق سبیعی رحمہ اللہ پر آپ نے تہمت لگانے میں بڑی جرأت سے کام لیا ہے۔ ﴿إِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ إِثْمٌ﴾ (الحجرات: 12) سے ذہول افسوسناک ہے۔ رفض اور تشیع میں جو فرق ہے، وہ اہل علم سے مخفی نہیں۔ [2] ’’فيه تشيّع‘‘ کے الفاظ اور بھی بے وزنی ہیں۔ یہ الفاظ حافظ خطیب رحمہ اللہ نے سلیمان بن مہران اعمش کے متعلق لکھے ہیں۔ [3] ان کا تشیع صرف اس قدر تھا کہ ان کا رجحان اہل بیت کی طرف تھا۔ وہ خوارج کی روش کو بھی پسند نہ کرتے تھے اور اہل شام کی مخاصمانہ پالیسی کو بھی برا سمجھتے تھے۔ یہ اگر جناب کی نظر میں جرم ہے، تو ایسا نہیں جسے رفض کہا جائے یا اس کی بنا پر روایت ترک کر دی جائے۔ محض کوفہ میں پیدا ہونا کوئی جرم نہیں۔ آپ پر شیعیت سے اس قدر گھبراہٹ ہے کہ تشیع کا لفظ آتے ہی آپ بے چارے اعمش پر حملہ آور ہو گئے!
[1] دیکھیں: إعلام الموقعين (1/13) [2] تفصیل کے لیے دیکھیں: لسان الميزان (1/9) [3] حافظ خطیب بغدادی رحمہ اللہ نے یہ الفاظ امام عجلی رحمہ اللہ سے نقل کیے ہیں۔ دیکھیں: تاريخ بغداد (9/6) الثقات للعجلي (1/434) علامہ جمال الدین قاسمی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’بہت سے رواۃ کو اتہاماً شیعی، خارجی اور ناصبی وغیرہ کہہ دیا جاتا ہے، جس کی کوئی اصل نہیں ہوتی۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ صحیحین کے بہت سے رواۃ پر ’’تشیع‘‘ کی تہمت لگائی گئی ہے۔ جب میں نے شیعہ کی کتب رجال کا مراجعہ کیا تو صحیحین کے پچیس رواۃ میں سے جن پر تشیع کا الزام تھا، مجھے صرف کتبِ شیعہ میں دو راویوں کا ذکر ملا، بقیہ رواۃ کا کوئی ذکر تک مجھے نظر نہیں آیا، جس سے ایک انتہائی اہم قاعدہ معلوم ہوا کہ اگر کسی شخص کا بدعت کی طرف انتساب کیا گیا ہو تو ہمیں اس مذہب کی کتب رجال کی طرف رجوع کرنا چاہیے، تاکہ اصل حقیقت حال معلوم ہو سکے۔‘‘ (قواعد التحديث، ص: 194، مختصراً)