کتاب: مقالات حدیث - صفحہ 573
(4) عید فطر اور عید الاضحیٰ کی تعیین۔ (ابو واقد لیثی کی روایت)۔ [1]
(5) ہجر کے مجوسیوں پر جزیہ لگایا۔ (حدیث عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ) [2]
(6) اموالِ کعبہ کی تقسیم حدیث کی وجہ سے ترک فرما دی۔
(7) معذور عورتوں کو طوافِ وداع کی رخصت حدیث کی بنا پر دی۔ [3]
(8) ہاتھ کی انگلیوں کی دیت میں برابری حدیث کی وجہ سے قبول فرمائی۔ [4]
(9) خاوند کی دیت سے بیوی کو حصہ ضحاک بن سفیان کی حدیث کی وجہ سے دیا۔ [5]
(10) مجنونہ کا رجم حدیث کی وجہ سے ترک فرما دیا۔ [6]
(11) حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے قریباً پانصد احادیث مروی ہیں۔ [7] (مسند احمد و کتب احادیث)
اگر انکار حدیث میں کسی دیانت داری کا امکان ہے، تو پھر اس مسلک کی نسبت حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی طرف کرنا بہت بڑا ظلم ہو گا۔ ’’تثبّت في الرواية‘‘ اور چیز ہے اور ’’حسبنا كتاب اللّٰه ‘‘ اور چیز!
باقی صحابہ کا بھی یہی حال ہے۔ اس کے متعلق صحابہ کی تفصیل ان شاء اللہ کسی دوسری صحبت میں آئے گی۔
روایاتِ حدیث اور عددِ احادیث پر غور:
حجۃ الوداع میں صحابہ کی تعداد قریباً ایک لاکھ سے کچھ اوپر تھی، جن میں روایتِ حدیث کا
[1] اصل روایت یوں ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ابو واقد لیثی رضی اللہ عنہ سے عیدین کی نماز میں نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قراءت کے بارے میں سوال کیا تھا، جس کا انہوں نے جواب دیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عیدین کی نماز میں سورت ق اور سورت قمر کی قراءت کیا کرتے تھے۔ (صحيح مسلم، برقم: 891)
[2] صحيح البخاري: أبواب الجزية والموادعة، باب الجزية والموادعة مع أهل الذمة والحرب، رقم الحديث (2987)
[3] فقہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ (ص: 266)
[4] مصنف عبدالرزاق (9/385) أقضية الخلفاء الراشدين (2/735)
[5] سنن أبي داود: كتاب الفرائض، باب في المرأة ترث من دية زوجها، رقم الحديث (2927)
[6] سنن أبي داود، برقم (4399)
[7] الخلاصة للخزرجي (ص: 282)