کتاب: مقالات حدیث - صفحہ 572
الروایہ کا تذکرہ چٹخارے لے لے کر بیان کیا جاتا ہے۔ اس لیے مناسب ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا مسلک وضاحت سے ذکر کر دیا جائے۔
عَنْ عُمْرُ بْنِ الْخِطَاب: ’’سَيَأْتِي نَاسٌ يُجَادِلُونَكُمْ بِشُبُهَاتِ الْقُرْآنِ ، فَخُذُوهُمْ بِالسُّنَنِ ، فَإِنَّ أَصْحَابَ السُّنَنِ أَعْلَمُ بِكِتَابِ اللّٰه عَزَّ وَجَلَّ ‘‘ (موافقات: 4/9، أيضاً: مختصر جامع لابن عبدالبر: 2/193) [1]
’’تمہیں ایسے لوگوں سے سابقہ پڑے گا جو قرآن کے مشتبہات پر بحث کریں گے۔ ان پر احادیث سے گرفت کرو، اہل حدیث قرآن کو بہتر سمجھتے ہیں۔‘‘
شاطبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
’’صرف کتاب اللہ پر انحصار ان لوگوں کا خیال ہے۔ جن کو ایمان سے حصہ نہیں ملا۔ ان کا اعتماد ہے کہ کتاب اللہ ہر چیز کا بیان ہے۔ ان لوگوں نے سنت کو ترک کر دیا، اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جماعت سے الگ ہو گئے اور کتاب اللہ کو بھی نہ سمجھ سکے۔‘‘ (موافقات: 4/8)
مندرجہ واقعات سے ثابت ہو گا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ حدیث کو حجت سمجھتے تھے یا نہیں؟
(1) ’’حديث استيذان‘‘ دوسرے گھر میں داخل ہونے کے لیے آواز دینا چاہیے۔ محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کی شہادت سے قبول فرمایا۔ [2]
(2) یہودونصاریٰ کی جزیرۃ العرب سے جلا وطنی کا فیصلہ حدیث کی بنا پر ہوا۔ [3]
(3) وبا زدہ علاقے میں داخل ہونے سے رک گئے، جب عبدالرحمان بن عوف رضی اللہ عنہ نے اس حدیث کا ذکر فرمایا۔ [4]
[1] سنن دارمي (1/62) جامع بيان العلم (2/244) الموافقات للشاطبي (4/17)
[2] صحيح مسلم: كتاب الآداب، باب الاستيذان، رقم الحديث (37) اس روایت میں شہادت دینے والے صحابی کا نام ابو سعید رضی اللہ عنہ مذکور ہے۔
[3] صحيح البخاري: كتاب الشروط، باب إذا اشترط في المزارعة إذا شئت أخرجتك، رقم الحديث (2580)
[4] صحيح البخاري: كتاب الطب، باب ما يذكر في الطاعون، رقم الحديث (5397) صحيح مسلم: كتاب السلام، باب الطاعون والطيرة والكهانة و نحوها، رقم الحديث (2219)