کتاب: مقالات حدیث - صفحہ 545
مولانا کا فخر:
مولانا کو اپنے اس اکتشاف پر اتنا فخر ہے کہ وہ امام خطیب بغدادی رحمہ اللہ اور دوسرے ائمہ حدیث کی نفسیات پر اس سوءِ ادب سے حملہ آور ہوئے ہیں جو ایک ذی علم آدمی کے لیے مناسب نہیں۔ اگر مولانا اپنی نفسیات کو ایسے موقع پر معتدل رکھ سکتے، تو مجھے خوشی ہوتی اور میں مولانا کو ایک انتہا پسند نقاد تصور کرتا، لیکن مجھے افسوس ہے کہ مولانا کا لہجہ بے ادب منکرین حدیث سے بھی زیادہ قابل شکایت ہے۔ دعا ہے کہ اس پیرانہ سالی میں اللہ تعالیٰ آپ کی راہنمائی فرمائے!
شاید اس فخر و استکبار ہی کا اثر ہے کہ مولانا کی یہ محنت بھی چنداں کامیاب ثابت نہیں ہوئی۔ واقعی خطیب کی روایت میں محمد بن موسیٰ اور محمد بن یعقوب مجہول الحال ہیں۔ ہماری کتبِ رجال میں ان کا ذکر نہیں پایا گیا، [1] لیکن امام اوزاعی رحمہ اللہ خود مصنف ہیں، انہوں نے فقہ الحدیث میں دو کتابیں مدون فرمائیں، ایک کا نام ’’كتاب السنن‘‘ ہے اور دوسری کا نام ’’كتاب المسائل‘‘ ہے۔ (فہرست ابن ندیم، ص: 318)
یقین ہے کہ یہ اثر ’’كتاب السنن‘‘ سے ماخوذ ہے۔ خطیب نے اسے اپنی سند سے نقل
[1] کتبِ رجال میں ان دونوں روات کا ترجمہ و توثیق موجود ہے:
1۔ محمد بن موسیٰ: ’’أبو سعيد محمد بن موسيٰ بن الفضل بن شاذان الصير في النيشا بوري‘‘
(1) حافظ ذہبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
’’الشيخ الثقة المأمون، أحد الثقات والمشاهير بنيسابور‘‘
(2) حافظ أبو بكر البغدادي لکھتے ہیں: ’’شيخ ثقة‘‘
انہوں نے 421ھ کو وفات پائی۔ تفصیل کے لیے دیکھیں: التقييد لمعرفة رواة السنن والمسانيد (ص: 110) سير أعلام النبلاء (17/350) تاريخ الإسلام (29/67) شذرات الذهب (3/220)
2۔ محمد بن یعقوب: ’’أبو العباس محمد بن يعقوب بن يوسف بن معقل بن سنان بن عبداللّٰه المعقلي الشيباني النيسا بوري الأصم‘‘
انہیں ابن ابی حاتم، ابن خزیمہ، ابو الولید الباجی اور ابن اثیر نے ’’ثقہ‘‘ قرار دیا ہے۔ حافظ ذہبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’الإمام المفيد الثقة محدث المشرق‘‘
تفصیل کے لیے دیکھیں: تاريخ دمشق (56/287) تذكرة الحفاظ (3/860) الوافي بالوفيات (5/223) شذرات الذهب (2/373)