کتاب: مقالات حدیث - صفحہ 542
مخالفت وہی لوگ کر سکتے ہیں، جن کا اسلام میں کوئی حصہ نہیں۔‘‘ اگر مقام نبوت محض لغوی زبان دانی سے متجاوز نہ ہو، تو سنت کا یقیناً یہ مقام نہیں ہو سکتا۔ محترم مخاطب مولانا تمنا کے ارشادات کا تعلق سلسلہ روایت سے ہے، جس کی تفصیل اس کے بعد آئے گی۔ إن شاء اللّٰه قرآن عزیز نے پیغمبر کے لیے ایک مستقل مقام مقرر فرمایا ہے اور ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم اس کے ارشادات کی پابندی کریں: ﴿ وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانتَهُوا ۚ وَاتَّقُوا اللّٰه ۖ إِنَّ اللّٰه شَدِيدُ الْعِقَابِ﴾ (الحشر: 7) ﴿آتَاكُمُ﴾ میں اموال غنیمت کی تقسیم کے علاوہ اوامر اور شرائع بھی چونکہ شامل ہیں، اس لیے اس کے بالمقابل ﴿نَهَاكُمْ﴾ فرمایا گیا ہے اور تقویٰ کی تلقین کے بعد عذاب کی شدت سے ڈرایا گیا ہے۔ ظاہر ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اگر یہ مقام حاصل نہ ہوتا، تو اجباء اور اصطفاء کوئی نعمت ہے نہ ہی کوئی احسان۔ نبوت کے لیے انتخاب و اصطفاء اسی صورت میں درست ہو سکتا ہے، جب اس کا مقام لغوی رسالت سے الگ اور اعلیٰ ہو۔ حدیث ’’مثله‘‘ اور ’’معه‘‘[1]کا بھی یہی مطلب ہے۔ مفصل بحث تو اس پر اس وقت ہو گی، جب مخاطب محترم اس حدیث پر روایتاً یا درایتاً بحث کریں گے۔ طریق حفاظت اور روایت کے مباحث کے لحاظ سے کوئی بھی سنت اور حدیث کو مثلِ قرآن نہیں کہتا۔ حسان بن عطیہ رحمہ اللہ کا اثر: حسان بن عطیہ رحمہ اللہ کا اثر [2] حقیقت کا ترجمان ہے۔ میں نے اسے تبعاً اور طرداً ذکر کیا ہے، مولانا تمنا نے اسے ایک مستقل اور اہم مبحث کی صورت دے دی۔ پیغمبر کی یہ حیثیت نص قرآن سے ثابت ہے، بلکہ ایمان و دیانت کی جان ہے۔ اگر حدیث ’’مثله‘‘ اور ’’معه‘‘ یا اثر حسان بن عطیہ رحمہ اللہ بالکل نہ ہوتے، تو بھی میں حدیث اور سنت کو وحی سمجھتا۔
[1] سنن أبي داود، رقم الحديث (4604) اس کا مفصل ذکر گزر چکا ہے۔ دیکھیں (ص: ؟؟) [2] یعنی جس میں حسان بن عطیہ رحمہ اللہ (تابعی) بیان کرتے ہیں کہ جبرئیل علیہ السلام جس طرح نبی اقدس صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآن لے کر آیا کرتے تھے، اسی طرح سنت لے کر آتے تھے اور جس طرح قرآن کی تعلیم دیتے تھے، اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنت کی تعلیم دیا کرتے تھے۔ (سنن الدارمي: 1/153، السنة للمروزي: 33)