کتاب: مقالات حدیث - صفحہ 533
میں کہیں ناپید ہو رہی ہے۔ اس لیے ظن سے پیچھا چھڑانا مشکل ہے۔ اتنا طویل مقالہ لکھنے کے بعد تاحال وہیں ہیں، جہاں سے انہوں نے اپنا سفر شروع فرمایا۔۔!
سنت باصطلاح جدید:
ترک حدیث یا اس کی ظنیت سے جو خلا پیدا ہوا تھا، اسے پاٹنے کے لیے مولانا نے ایک نئی اصطلاح وضع فرمائی ہے۔ مولانا کے طویل سلبی مقالہ میں یہی ایک ایجابی چیز ہے، جس پر اس وقت ہمیں غور کرنا ہے:
’’سنت اس دینی دستور اور مذہبی رواج کا نام ہے، جس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے وقت میں قائم فرمایا تھا۔ پھر آپ کے بعد تک وہ دستور و رواج دینی حیثیت سے اسی طرح قائم رہا، کم از کم عہد فاروقی تک، کیونکہ خیر القرون کی مدت حضرت فاروق اعظم کے بعد ختم ہو جاتی ہے۔‘‘ (ص: 30)
سنت کی یہ تعریف خود خلاف سنت ہے، نہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے وقت میں اسے قائم فرمایا اور نہ زمانہ فاروقی تک اہل علم کی محفلیں اس سے آشنا ہو سکیں اور نہ ہی دینی رواج و دستور میں اس کا کبھی تذکرہ ہوا۔
’’دین‘‘، ’’مذہب‘‘، ’’دستور‘‘، ’’رواج قائم کرنا‘‘، اس طرح کے الفاظ تعریف میں عجیب ہیں۔ مقام نبوت کو رواج کا ضمیمہ بنا دیا گیا ہے۔ سارا زور رواج اور دستور پر ہے۔ [1]
(1) فرض کیجیے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ایک حکم نافذ فرماتے ہیں، لیکن کچھ عرصہ کے بعد وہ رواج ترک
[1] سنت کی ایک تعریف تو وہ ہے جو ائمہ حدیث و سنت زمانہ سلف سے لے کر اب تک کرتے چلے آئے ہیں، جسے مؤلف رحمہ اللہ نے آئندہ صفحات میں نقل کر دیا ہے، اور سنت کی دوسری تعریف وہ ہے جس پر تمنا عمادی، فراہی، امین احسن اصلاحی اور غامدی گروپ کو اصرار ہے۔ اگر آپ ثانی الذکر تعریف کا مستشرقین کی تعریف سنت کے ساتھ موازنہ کر کے دیکھیں، تو یہ حقیقت روز روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ ہمارے ان ’’مجتہدین‘‘ کی تعریف کسی مخلصانہ تحقیق اور بحث و نظر پر مبنی نہیں، بلکہ یہ اعداءِ دین و سنت مستشرقین کے شبہات اور تلبیسات کا چربہ اور بازگشت ہے، جو ان کی معنوی اولاد ’’خدمتِ دین‘‘ کے نام پر بلند کیے ہوئے ہے۔ اب فیصلہ ان کے ہاتھ میں ہے کہ انہیں مستشرقین کے ’’اجتہاد‘‘ کی اتباع کرنی چاہیے یا مخلصین امت ائمہ حدیث و سنت کی تعریف پر قناعت کرنی چاہیے، جو کتاب و سنت کے مخلصانہ فہم و مطالعہ پر مبنی ہے۔ تفصیل کے لیے دیکھیں: دراسات في الحديث النبوي و تاريخ تدوينه (1/1)