کتاب: مقالات حدیث - صفحہ 525
معذرت کرنا ہے اور نہ ہی اپنے اس حق سے دست بردار ہونا ہے، بلکہ یہ حق اہل سنت کے لیے ہمیشہ سے محفوظ ہے۔
من سب بالبرهان ليس بظالم
والظلم سب المرء بالبهتان [1]
آئندہ بھی جو صاحب فن حدیث اور ائمہ حدیث کے متعلق متانت سے لکھیں گے، ان کا جواب اسی انداز سے ہو گا اور جو حضرات تہمت تراشی اور الزام کی راہ اختیار کریں گے، ان کا جواب قصاص کی میزان پر تلے گا۔ ﴿إِنْ أُرِيدُ إِلَّا الْإِصْلَاحَ مَا اسْتَطَعْتُ ۚ وَمَا تَوْفِيقِي إِلَّا بِاللّٰه ﴾ (ھود: 88)
اللّٰه مَّ أَرِنَا الحَقَّ حقَّاً وَارْزُقْنَا اتِّبَاعَهُ وَأَرِنَا البَاطِلَ بَاطِلاً وَارْزُقْنَا اجْتِنَابَهُ اللّٰه مَّ وَفِّقْنِي لِمَا تُحِبُّ وَتَرْضَى
[1] ظالم وہ نہیں جو دلیل کے ساتھ گالی دے۔ ظلم تو آدمی کو بہتان کے ساتھ گالی دینا ہے!