کتاب: مقالات حدیث - صفحہ 496
احادیث کا حفظ اور اس کے متعلق تحریری یاد داشتیں لکھنا اسی وقت شروع ہو گیا تھا۔ بعض احکام تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خود قلم بند فرمانے کی ہدایت فرمائی۔ یہی نوٹ اور یاد داشتیں کسی وقت پر فن کی تدوین اور علم کی اشاعت کا موجب ہو سکتی ہیں۔ مشاہیر اہل علم کی ڈائریاں برسوں بعد شائع ہوتی ہیں اور ان پر کسی کو اشتباہ نہیں ہوتا۔ اس لیے اس مبحث پر غور کرتے ہوئے تدوین علم اور تدوین کتب کے فرق کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کا دور علم حدیث کی تدوین کا دور ہے، گو اس وقت تدوین کتب کا کام شروع نہیں کیا گیا۔ تدوین کتب کے لیے ذخیرہ ہوتا رہا، تدوین کتب کے لیے اللہ تعالیٰ نے دوسرے وقت کا فیصلہ فرما دیا تھا، جس کا آغاز دوسری صدی میں ہوا۔ فن حدیث میں تدریجی ارتقاء: پہلی صدی کے شروع میں جب قرآن اتر رہا تھا، عوام کا ذہن قرآن اور سنت کے امتیاز پر قادر نہ تھا، اس وقت حدیث لکھنے کی ممانعت کر دی گئی۔ جب لوگ نظم قرآن سے آشنا ہو گئے، قرآن اور ما سویٰ القرآن میں امتیاز کرنے لگے، تو احادیث کے حفظ اور ضبط کی تلقین فرمائی گئی اور بوقت ضرورت لکھنے کی اجازت دی گئی، لیکن تحریر کا معاملہ اختیاری رہا۔ جب خطرات اور اہم ہوئے اور حدیث میں اختلاط کا خطرہ بڑھ گیا، علوج اور غیر ملکی رعایا کے ظن اور غلط نوازی کی وجہ سے خطرہ تھا کہ حدیث میں اغلاط کی کثرت نہ ہو جائے، تو حکماً لکھنے کی تاکید فرمائی گئی۔ حضرت انس، حضرت عمر، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہم تینوں کا ارشاد ہے: ’’ قَيِّدُوا العِلمَ بالكِتاب ‘‘[1](الجامع لابن عبدالبر، ص: 72)
[1] یہ اثر مندرجہ ذیل صحابہ کرام سے مروی ہے: (1) حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ، سنن الدارمي (1/138) المستدرك (1/187) جامع بيان العلم (1/309) المحدث الفاصل (ص: 377) حلية الأولياء (5/340) (2) حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ، تقييد العلم (ص: 89) (3) حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ، كتاب العلم لأبي خيثمة (ص: 34) جامع بيان العلم (/310) (4) حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ، ان سے یہ اثر مرفوعاً اور موقوفاً دونوں طرح مروی ہے۔ مرفوع روایت کو علامہ البانی رحمہ اللہ نے کثرتِ طرق کی بنا پر ’’صحيح لغيره‘‘ قرار دیا ہے۔ تفصیل کے لیے دیکھیں: السلسلة الصحيحة (5/40) دوام حديث (1/153)