کتاب: مقالات حدیث - صفحہ 435
طبقاتِ محدثین: [1]مکرم ناگی صاحب نے سوال کو پھیلاتے ہوئے نومبر 50ھ کے ’’طلوع اسلام‘‘ سے محدثین کے طبقات کا ذکر فرمایا ہے۔ یہ مضمون معلوم ہوتا ہے حجۃ اللہ سے نقل کیا گیا ہے۔ نقل در نقل کی وجہ سے محترم کے لیے لغزش کا موجب ہو گیا ہے۔ یہ دراصل کتب حدیث کے طبقات ہیں، محدثین کے طبقات نہیں۔ [2]1 اگر براہ راست حجۃ اللہ سے نقل کیا جاتا، تو غالباً یہ لغزش نہ ہوتی۔ اصل ناقل نے عمداً یہ غلطی کی ہے یا قلت فہم سے یہ لغزش سرزد ہوئی۔ ادارہ طلوع اسلام اور ان کے ہم خیال حضرت عجمی سازش سے اس قدر مرعوب ہیں کہ وہ ہر جگہ سازش ہی سازش دیکھتے ہیں۔ ذکاوتِ حس کا یہ حال ہے کہ ایرانی ذہن پر سوار ہو گئے۔ کتب حدیث کے طبقات میں بھی انہیں ایرانی سازش ہی نظر آ رہی ہے، حالانکہ یہ نصاب کا معاملہ ہے، اس میں کتاب کی جامعیت، حسن ترتیب، حسن تبویب، حسن سیاق، زبان اور اس کے علاوہ بیسیوں چیزیں ملحوظ رکھنا ہوتا ہے، لیکن سائل محترم کو ایرانیت نظر آ رہی ہے! حقیقت یہ ہے کہ سفیان ثوری، حماد بن سلمہ، اوزاعی، معمر وغیرہ کی تصنیفات محض تذکرے اور
[1] کے شمول پر اتفاق ہے، لیکن چھٹی کتاب کون سی ہے؟ اہل علم کے درمیان یہ مختلف فیہ ہے، جس میں تین اقوال ہیں: (1) سنن دارمي: حافظ علائی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سنن دارمی کو چھٹی کتاب رکھا جانا چاہیے، کیونکہ اس میں ضعیف رواۃ اور شاذ و منکر احادیث بہت کم ہیں۔ اگرچہ اس میں مرسل اور موقوف روایات موجود ہیں، لیکن پھر بھی یہ ابن ماجہ سے بہتر ہے۔ (2) موطا امام مالك: بعض اہل علم، رزین سرقسطی اور ابن اثیر وغیرہ نے موطأ کو چھٹی کتاب شمار کیا ہے۔ (3) سنن ابن ماجه: سب سے پہلے حافظ ابو الفضل محمد بن طاہر المقدسی نے ابن ماجہ کو کتب ستہ میں شمار کیا۔ انہوں نے اپنی کتاب ’’الأطراف‘‘ اور ’’شروط الأئمة الستة‘‘ میں بقیہ کتب کے ساتھ ابن ماجہ کا چھٹی کتاب کے طور پر اضافہ کیا۔ بعد ازاں حافظ عبدالغنی المقدسی نے بھی ’’الكمال في أسماء الرجال‘‘ میں ابن ماجہ کو چھٹی کتاب قرار دیا اور حافظ ذہبی، ابن حجر اور دیگر علماء نے اسے برقرار رکھا۔ اسے بقیہ کتب پر حسن ترتیب، کتب خمسہ پر زوائد، مرفوع احادیث کی کثرت اور مرسل اور موقوف روایات کی قلت و ندرت کی بنا پر فوقیت حاصل ہوئی۔ دیکھیں: فتح المغيث (1/87) توجيه النظر للجزائري (1/372) [2] 1 دیکھیں: حجة اللّٰه البالغة (ص: 280)