کتاب: مقالات حدیث - صفحہ 409
وغیرہ کتب اصولِ حدیث کی طرف توجہ کرنا چاہیے۔ [1] ’’عجمی سازش‘‘ ایسی شر آمیز تہمت سے فن حدیث کی تاریخ یکسر خالی ہے۔
پھر وضع و تخلیق کا عمل احادیث کے مختلف ابواب میں جاری رہا ہے، جن کو سیاست سے دور کا بھی تعلق نہیں۔ موضوعات علی قاری رحمہ اللہ، الفوائد المجموعة للشوكاني رحمه اللّٰه ، تذكرة الموضوعات للشيخ محمد طاهر رحمه اللّٰه ، بعض رسائل ابن تیمیہ رحمہ اللہ، تميز الطيّب من الخبيث فيما يدور علي ألسنة الناس من الحديث (للشيخ عبدالرحمٰن بن علي الشيباني الأثري) وغیرہ کتب کی طرف رجوع فرمائیے۔ [2] ان کے ایک ایک باب دیکھیے، آپ یقین کریں گے کہ وہاں کوئی عجمی سازش ہے، نہ عربی سازش، نہ ایرانی سازش ہے، نہ چینی، وہ صرف جذبات کی کرشمہ سازی ہے۔ امام مسلم اپنی صحیح کے مقدمہ میں فرماتے ہیں:
’’میرے سامنے صالحین کی ایک جماعت ہے، جن کی پرہیزگاری پر مجھے کوئی اعتراض نہیں، لیکن ان صوفی حضرات کی احادیث پر مجھے قطعاً اعتماد نہیں۔ وہ لوگوں کو نیک اعمال کی ترغیب کے لیے احادیث بناتے ہیں۔‘‘ [3]
[1] شرح الألفية للعراقي (ص: 120) فتح المغيث (1/252) تدريب الراوي (1/274) نزهة النظر (ص: 223) قواعد التحديث (ص: 147) توجيه النظر (2/574)
[2] موضوع احادیث کی باقاعدہ جمع و تدوین پانچویں ہجری کے آغاز میں عمل میں آئی۔ اس فن میں سب سے پہلی تصنیف کے طور پر أبو سعيد محمد بن علي النقاش الحنبلي (414ھ) کی کتاب ’’الموضوعات‘‘ کا ذکر ملتا ہے۔ دیکھیں: ميزان الاعتدال (1/118) لسان الميزان (1/220)
بعد ازاں ہر دور میں موضوع احادیث کی جمع و تدوین علماء کرام کی توجہ کا مرکز رہی اور اس سلسلے میں متعدد تصانیف منظر عام پر آئیں، چنانچہ التذكرة في الأحاديث الموضوعات لمحمد بن طاهر المقدسي (م 507) الأباطيل والمناكير والصحاح والمشاهير للجوزقاني (م 543) الموضوعات من الأحاديث المرفوعات لابن الجوزي (م 597) الموضوعات للصاغاني (م 650) أحاديث القصاص لابن تيميه (م 728) الكشف الحثيت للحلبي (م 841) اللآلي المصنوعة للسيوطي (م 911) تنزيه الشريعة لابن عراق (م 963) الأسرار المرفوعة لملا علي قاري (م 1014ھ) وغیرہا، اس فن کی امہات الکتب میں شمار کی جاتی ہیں۔
[3] امام مسلم رحمہ اللہ نے مقدمہ صحیح (ص: 12) میں صالحین اور زہاد سے روایت کے بارے میں دو قول ذکر کیے ہیں:
(1) امام ابو الزناد رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
’’أدركت بالمدينة مائة كلهم مأمون، ما يؤخذ عنهم الحديث، يقال: ليس من أهله‘‘ ---