کتاب: مقالات حدیث - صفحہ 408
[1]آپ اصولِ محدثین کے مطابق ان پر جرح کر کے جو قابل رد ہیں، انہیں رد کر دیجیے، جو قابل قبول ہیں، انہیں مان لیجیے۔ یہ سازش کہاں کی ہوئی کہ عجمیوں نے سازش کر کے ایک سیاسی انقلاب برپا کیا اور حکومت پھر عباسیوں کو دے دی، جو خالص عرب تھے!
وضع و تخلیق:
حقیقت یہ ہے کہ احادیث کی وضع و تخلیق مختلف اسباب کی مرہون منت رہی، کبھی رقت قلب سے یہ عادت نمودار ہوئی، کبھی طمع دنیا سے۔ کبھی کسی بادشاہ کی خوشامد کے لیے یہ فعل سرزد ہوا، کبھی ہوائے نفس سے۔ یہ ایک مستقل موضوع ہے اور کافی مبسوط، جس کے لیے ایک مستقل صحبت کی ضرورت ہے۔ [2]1 طالب علم کو اس باب میں نزهة النظر، فتح المغيث للعراقي، فتح المغيث للسخاوي، توجيه النظر للجزائري، قواعد التحديث، تدريب الراوي
[1] مسائل میں اجتہاد کی کوئی گنجائش نہیں۔‘‘ (التوضيح في تواتر ما جاء في المهدي المنتظر والدجال والمسيح للشوكاني نقلا عن عقيدة أهل السنة والأثر في المهدي المنتظر للشيخ عبدالمحسن العباد، ص: 8)
علاوہ ازیں حافظ أبو الحسن السجزي (363ھ) امام محمد البرزنجي (1103ھ) السفاريني (1188ھ) نواب صديق حسن خان (1307ھ) اور محمد بن جعفر الكتاني (1345ھ) نے احادیثِ مہدی کو متواتر قرار دیا ہے۔ (عقيدة أهل السنة في المهدي المنتظر للشيخ عبدالمحسن العباد، ص: 9)
یقیناً مہدی کے بارے میں ضعیف اور موضوع احادیث بھی مروی ہیں، لیکن یہ نفسِ مسئلہ کے لیے چنداں مضر نہیں، کیونکہ صحیح احادیث کی موجودگی میں ان سے استدلال کی قطعاً ضرورت نہیں اور علماءِ سلف نے اپنی کتب میں ان کا ضعیف اور موضوع ہونا بیان کر دیا ہے، جس کے بعد کسی طرح کا اشتباہ ممکن نہیں۔ ﴿لِّيَهْلِكَ مَنْ هَلَكَ عَن بَيِّنَةٍ وَيَحْيَىٰ مَنْ حَيَّ عَن بَيِّنَةٍ﴾
[2] 1 احادیث میں وضع و تخلیق کا آغاز خلافت راشدہ کے بعد چالیس ہجری کے قریب ہوا۔ سب سے پہلے شیعہ نے شخصی فضائل میں احادیث وضع کیں، بعد ازاں مختلف فرق و طوائف نے اپنے اپنے دعاوی کی تائید و تصدیق میں اس عمل کو رواج دیا، جس کے اسباب مختلف رہے۔ بعض اسباب کا مؤلف رحمہ اللہ نے ذکر کر دیا ہے۔ اہل علم نے اس کے علاوہ بھی بعض اسبابِ وضع کا تذکرہ اپنی مؤلفات میں کیا ہے، جن میں سیاسی اختلافات، زنادقہ کی طرف سے اسلام پر طعنہ زنی، قصہ گوئی، نیکی کی ترغیب، فقہی اور کلامی اختلاف، مذہب، قبیلہ اور کسی امام کی عصبیت اور شہرت پسندی خصوصاً قابل ذکر ہیں۔ دیکھیں: المجروحين لابن حبان (1/62) تدريب الراوي (1/283) توضيح الأفكار (2/68)