کتاب: مقالات حدیث - صفحہ 392
[1]
[1] (2) مولانا حسین احمد مدنی اپنی وسیع المشربی کا اظہار یوں فرماتے ہیں کہ اہل حدیث خبیث اور ناپاک لوگ ہیں۔ (الشهاب الثاقب: 51)
(3) مولانا مہاجر احمد مکی فرماتے ہیں:
’’اہل حدیث دین کے ڈاکو ہیں۔‘‘ (شمائم إمداديه، ص: 28)
(4) ایک اور کرم فرمانے اہل حدیث کا شمار عیسائیوں مرزائیوں، دہریہ اور نیچری لوگوں میں کیا ہے۔ (رساله القاسم: 1/ شماره: 5)
(5) مولانا رشید احمد گنگوہی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
’’اہل حدیث لوگ جاہل، گمراہ، ناواقف اور خود رائے ہیں۔‘‘ (سبيل الرشاد، ص: 10، 5)
(6) مولانا انور شاہ صاحب فرماتے ہیں کہ ابن حجر نے حنفیہ کو بہت نقصان پہنچایا ہے اور میں نے ان کے ساتھ نرم سلوک کر کے حنفیہ کی ’’نمک حرامی‘‘ کی ہے۔ (مقدمه أنوار الباري)
کیا ان مرصع گالیوں کے بعد بھی کوئی شخص باور کر سکتا ہے کہ یہ حضرات اہل حدیث کے بارہ میں تنگ ظرف اور متعصب نہیں ہیں؟ اب اگر اسی حقیقت کی طرف مولانا محمد اسماعیل صاحب نے اشارہ فرما دیا ہے، تو اس میں اس قدر سیخ پا ہونے کی کیا ضرورت ہے؟ کیا بزمی صاحب کے خیال میں دن کو دن اور رات کو رات کہنا جرم ہے؟
امید ہے کہ حقیقت حال کی وضاحت کے بعد بزمی صاحب کا ذہن صاف ہو گیا ہو گا۔