کتاب: مقالات حدیث - صفحہ 391
[1]
[1] پیش کر دی ہیں، امید ہے کہ آپ اپنے رفقاء سمیت ان پر ٹھنڈے دل سے غور کریں گے اور ان کو شخصیت پرستی کے سردخانہ میں نہیں ڈال دیں گے۔ مولانا محمد اسماعیل صاحب نے اپنے مضمون میں ایک اہم سوال یہ بھی اٹھایا تھا کہ آخر یہ جرح و تنقید کا کون سا اصول ہے کہ کسی راوی کا نام لیے بغیر یوں ہی حدیث کا انکار کر دیا جائے؟ محدثین کوئی جرح مبہم قبول نہیں کرتے اور یہاں کسی راوی کا نام تک نہیں لیا جاتا۔ یہ دنیا میں جرح کی کون سی قسم ہے؟ اس طرح تو بیسیوں رواۃ نے یہ حدیث بیان کی ہے، وہ سب ساقط الاعتبار ٹھہریں گے۔ اس سوال کا جواب خوش نویس صاحب اور ان کے علمی سرپرستوں کے ذمہ ہے اور افسوس ہے کہ موصوف نے مکتوب مفتوح میں اس کو ہاتھ تک نہیں لگایا۔
پروفیسر خالد بزمی صاحب سے:
مولانا محمد اسماعیل صاحب کے مضمون پر ان لوگوں کا برہم ہونا تو سمجھ میں آتا ہے جو مولانا مودودی کے ’’دربار‘‘ سے وابستہ ہیں، لیکن نامعلوم ہفت روزہ ’’چٹان‘‘ کے کالم نویس پروفیسر خالد بزمی صاحب اس سے کیوں خفا نظر آتے ہیں؟ پروفیسر صاحب کا خیال ہے چونکہ مولانا مودودی کی عمر کا بیشتر حصہ قرآن و حدیث کی تشریح و تبلیغ میں گزرا ہے، لہٰذا ان کے متعلق یہ کہنا کہ علم کی ان متعارف راہوں سے موصوف واقف نہیں، ’’کم ظرفی‘‘ ہے۔ ہم نے مولانا مودودی صاحب کے تفقہ کی جو مثالیں شروع میں پیش کی ہیں، ان سے یہ حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ مولانا محمد اسماعیل صاحب کا ارشاد سچا تھا۔ اس سے قطع نظر اگر مولانا مودودی کی عمر کا بیشتر حصہ قرآن و حدیث کی تبلیغ و تشریح میں گزرا ہے، تو مولانا محمد اسماعیل صاحب نے بھی بال دھوپ میں سفید نہیں کیے۔
آپ کا علم بہت ٹھوس، فکر بہت عمیق اور معلومات کا دائرہ بہت وسیع ہے۔ مولانا مودودی نے تو شاید بخاری شریف کو استیعاباً پڑھا ہے یا نہیں، لیکن مولانا محمد اسماعیل صاحب نے اسے کئی سال درساً پڑھایا ہے اور موصوف کا قول اس بارے میں مولانا مودودی کی نسبت زیادہ وزنی ہے۔
پروفیسر بزمی صاحب کو اس بات سے بھی بہت تکلیف ہوئی ہے کہ مولانا محمد اسماعیل صاحب نے اپنی کتاب ’’تحریک آزادی فکر‘‘ میں مولانا اشرف علی تھانوی صاحب رحمہ اللہ اور مولانا انور شاہ صاحب رحمہ اللہ کو ’’کم ظرف‘‘ کہا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ بزمی صاحب نے تصویر کا صرف ایک رخ دیکھا ہے، اگر دوسرا بھی ملاحظہ فرما لیتے، تو ایسا کہنے کی جسارت نہ فرماتے۔ یہ بزرگ اپنے علم و فضل کے باوجود اہل حدیث کے متعلق بہت متعصب اور تنگ ظرف واقع ہوئے ہیں اور یہ بات ان دونوں ہستیوں پر منحصر نہیں ہے، بلکہ ’’اہلحدیث‘‘ تمام حنفی علماء کی مشترکہ کمزوری ہے۔ جب بھی اس جماعت کا ذکر آتا ہے تو ان حضرات کا دوران خون تیز ہو جاتا ہے اور ان کے صبر و ضبط کا پیمانہ چھلک جاتا ہے۔
چند مثالیں ملاحظہ ہوں:
(1) مولانا محمد حسن سنبھلی رحمہ اللہ اپنی وسیع الظرفی کا مظاہرہ یوں کرتے ہیں کہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر تنقید کرنے والے (جن میں امام بخاری، دارقطنی، نسائی وغیرہ شامل ہیں) احمق، ذلیل، کتے، گدھے، مکھیاں اور مچھر ہیں۔ (مقدمه مسند أبي حنيفه) ---