کتاب: مقالات حدیث - صفحہ 390
[1]
[1] خامساً: حدیث کا رد کرنا اتنا آسان نہیں جتنا آپ کی عقل سلیم نے سمجھ رکھا ہے۔ اگرچہ مذکورۃ الصدر بحث سے واضح ہو چکا ہے کہ یہ حدیث قرآن کے ظاہر و باطن کے کسی طور پر بھی مخالف نہیں، لیکن اگر آپ کی عقل ’’سلیم‘‘ کچھ تضاد محسوس کرتی ہے، تو کیا ان دونوں میں تطبیق کی تمام راہیں بند ہو چکی ہیں؟
اس حدیث کا انکار کرنے والوں میں امام رازی پیش پیش ہیں، لیکن انہیں بھی تسلیم ہے کہ اگر اس حدیث میں کذب سے تعریض مراد لی جائے، تو پھر اس کا قرآن سے کوئی تضاد نہیں رہ جاتا ہے۔ کیا امام رازی کی عقل سلیم صرف حدیث کے انکار کے بارے میں قابل تقلید ہے یا اس تطبیق کے بارے میں بھی؟
بہرحال خوش نویس صاحب کا یہ عقل سلیم کا بہانہ ’’عذر گناہ بدتر از گناہ‘‘ کا مصداق ہے اور حدیث کسی صورت میں بھی عقل سلیم کے مخالف نہیں۔ ولله الحمد
2۔ خوش نویس صاحب اپنے مکتوب مفتوح میں لکھتے ہیں:
’’عموماً مسائل کے استنباط و تخریج میں سلف میں سے کسی نہ کسی امام، محدث یا فقیہ کی تائید انہیں (مولانا مودودی) حاصل ہوتی ہے۔‘‘
خوش نویس صاحب کا یہ ارشاد موصوف کی خوش فہمی اور ابلہ فریبی کی علامت ہے، کیونکہ ’’شاذ‘‘ قول سے استدلال کرنا شہرت پسندی اور کج فکری کی علامت سمجھی جاتی ہے۔ اس کی زندہ مثال ڈاکٹر فضل الرحمٰن صاحب ہیں۔ ذبیحہ کے معلق ڈاکٹر صاحب کے خلاف ملک بھر میں ہنگامہ بپا ہے، حالانکہ امام شافعی کی تائید انہیں حاصل ہے۔ اگر کسی نہ کسی امام محدث یا فقیہ کی تائید حاصل ہونا صداقت کی دلیل ہے، تو ڈاکٹر فضل الرحمٰن کے خلاف یہ ہنگامہ آرائی کیوں؟ کیا یہ اصول صرف ڈاکٹر فضل الرحمٰن ہی کے لیے ہے یا مولانا مودودی کے لیے بھی؟
ہم ڈاکٹر صاحب موصوف کی یہ غلطی سمجھتے ہیں، وہ ایک شاذ قول لے کر علماءِ امت کے مقابلہ پر آ گئے ہیں، حالانکہ اتباع ’’شاذ‘‘ کی نہیں بلکہ معمول بہ اور جمہور کی ہونی چاہیے۔ حافظ دارمی فرماتے ہیں:
’’إن الذي يريد الشذوذ عن الحق يتبع الشاذ من قول العلماء، ويتعلق بزلاتهم، والذي يؤم الحق في نفسه يتبع المشهور من قول جماعتهم، و ينقلب مع جمهورهم، فهاتان آيتان بينتان يستدل بهما علي اتباع الرجل و ابتداعه‘‘ (الرد علي الجهمية، ص: 68)
’’جو شخص حق سے روگردانی کرنا چاہتا ہے، وہ علماء کے اقوال میں سے شاذ قول اختیار کرتا ہے اور ان کی غلطی کو حجت بنا لیتا ہے، اور جو شخص حق کا طلب گار ہوتا ہے، وہ قول مشہور اختیار کر لیتا ہے اور جمہور علماء کا ساتھ دیتا ہے۔ یہ وہ عظیم الشان اصول ہے، جس کی بنا پر مبتدع اور متبع شخص کو پہچانا جا سکتا ہے۔‘‘
حافظ دارمی کے اس ارشاد سے خوش نویس صاحب کو معلوم ہو گیا ہو گا کہ زیر بحث حدیث میں مولانا مودودی کا امام رازی کے شاذ قول کو قبول کرنا اور ان کی غلطی سے تمسک کرنا مولانا مودودی کے لیے کس قدر نقصان دہ ہے!
خوش نویس صاحب کے مکتوب مفتوح میں ہمیں جو قابل مواخذہ چیزیں نظر آئی ہیں، ان پر گزارشات ---