کتاب: مقالات حدیث - صفحہ 352
مجھے یہ ترمیم منظور، لیکن تصوف کا شاعرانہ دور تو ساری بدعات کا منبع ہے۔ یہ تو ’’فر من المطر و قام تحت الميزاب‘‘[1]کی مثال ہے۔ یہ صحیح ہے کہ قادیانیت بہت بڑی شناعت ہے۔
امت کی معصومیت:
اجماع اور تلقی بالقبول کے سلسلہ میں میں نے بحیثیت مجموعی امت کی معصومیت کا ذکر کیا تھا۔ مولانا ماہر القادری فرماتے ہیں کہ
’’اہل حدیث کو ایسے علم کلام کا استعمال نہیں کرنا چاہیے۔‘‘ [2]
اس علمی مسکنت کا کیا علاج کیا جائے؟ کاش! مولانا جماعت اسلامی کے علماء کی طرف اس مسئلہ میں بھی رجوع فرماتے۔ اجماع کی حجیت اور اس کی تعبیر میں بے شک اختلاف ہے، لیکن جو لوگ اجماع کو حجت مانتے ہیں، ان کی ایک دلیل یہ بھی ہے کہ امت بحیثیت مجموعی معصوم ہے۔ یہ مسئلہ احادیث التزامِ جماعت [3] اور ((لا تجتمع أمتي علي ضلالة)) [4]وغیرہ سے استنباط فرمایا گیا ہے۔
كشف الأسرار شرح أصول بزدوي میں ہے:
’’فدل علي أنه أراد ما لا تعصم عنه الآحاد من سهو و خطأ و كذب، و يعصم عنه الأمة، تنزيلا لجميع الأمة منزلة النبي في العصمة عن الخطأ في الدين‘‘[5](3/979)
[1] بارش سے بھاگا اور پرنالے کے نیچے کھڑا ہو گیا!
[2] فاران (ص: 49)
[3] یعنی جن احادیث میں اجتماعی زندگی گزارنے کی تلقین اور تفرق و تخرب سے ممانعت ہے اور مسلمان حکمران کی موجودگی میں اس سے جنگ و جدل اور راہِ شذوذ اختیار کرنے سے منع کیا گیا ہے۔ دیکھیں: صحيح البخاري، برقم (3411) صحيح مسلم، برقم (1887) سنن أبي داود، برقم (4758) سنن الترمذي، برقم (2165) سنن النسائي، برقم (847)
[4] مذکورہ بالا الفاظ کے ساتھ یہ حدیث ثابت نہیں ہے، لیکن اس معنی میں دیگر الفاظ کے ساتھ یہ حدیث صحیح ہے۔ امام ابن حزم رحمہ اللہ مذکورہ بالا الفاظ کے ساتھ یہ حدیث نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں: ’’وهذا وإن لم يصح لفظه ولا سنده، فمعناه صحيح بالخبرين المذكورين آنفا‘‘ (الإحكام لابن حزم: 4/527) نیز دیکھیں: التلخيص الحبير (3/141) كشف الخفاء، برقم (2999) السلسلة الصحيحة (3/319) بعض اہل علم نے اس حدیث کو متواتر احادیث میں شمار کیا ہے۔ دیکھیں: نظم المتناثر من الحديث المتواتر للكتاني (ص: 161)
[5] كشف الأسرار(3/382)