کتاب: مقالات حدیث - صفحہ 350
در منثور میں طرق کا استقصا کیا گیا ہے۔ ٓآلوسي نے اس پر مبسوط بحث کی ہے۔ صاحب فتح البیان ان تمام طرق پر غیر مطمئن ہیں۔ [1] صحیح بخاری میں ابن عباس اور عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہم سے دو اثر منقول ہیں، ان میں غرانیق کا ذکر اشارتاً ہے، صراحتاً نہیں۔ اس میں کوئی خلش نہیں۔ (صحيح بخاري: 2/721) [2] فن سے تھوڑی بہت ممارست کی وجہ سے جو تاثرات تھے، عرض کر دیے گئے۔ اسے آپ کے ہاں اگر تضاد فرمایا جاتا ہے، تو شوق سے فرمائیے۔ مشکل یہی ہے کہ آپ کے ہاں احادیث پر تنقید چھاتی کے زور سے ہوتی ہے، ہمارے ہاں یہ رواج نہیں ہے۔ حدیث کا احترام اور ائمہ اسلام کی محنت پر اعتماد اس ’’تضاد‘‘ کا موجب ہے اور رہے گا۔ إن شاء اللّٰه ۔! میں آپ کو اس جرأت میں معذور سمجھتا ہوں، آپ کے ہاں وہ اسباب و دواعی غالباً ناپید ہیں، جو اس سینہ زوری سے روک سکیں یا جن سے اس فن کی عظمت قائم ہو سکتی ہے۔ معتزلہ سے تاثر: میں نے عرض کیا تھا کہ حنابلہ اور اہل حدیث، معتزلہ سے متاثر نہیں۔ باقی ائمہ کے بعض اتباع ان سے متاثر ہو گئے۔ [3] مولانا ماہر القادری متاثرین کی وکالت فرماتے ہیں کہ ’’اپنی ’’تعمق في الدين‘‘ کی کمزوری اور دینی مسائل میں دقتِ نظر کی کوتاہی کو
[1] الدر المنثور (6/65) روح المعاني (17/176) فتح البيان (9/67) کسی بھی صحیح اور متصل سند سے یہ قصہ ثابت نہیں ہے۔ چند مرسل اسانید سے یہ واقعہ مروی ہے اور مرسل روایت ائمہ محدثین کے نزدیک از قسم مردود اور ناقابل احتجاج ہے۔ علامہ ناصر الدین البانی رحمہ اللہ نے اس واقعے کے متعلق تمام مرویات کو اپنے رسالہ ’’نصب المجانيق في نسف قصة الغرانيق‘‘ میں جمع کیا ہے، جس میں انہوں نے اس واقعہ پر سنداً اور متناً بحث کی ہے اور اس کے عدم ثبوت اور ناقابل احتجاج ہونے کے بڑے ٹھوس اور تفصیلی دلائل ذکر کیے ہیں۔ جزاه اللّٰه خير الجزاء مزید برآں اس قصے کو امام ابن خزیمہ، بیہقی، ابن العربی، قاضی عیاض، فخر الدین الرازی، قرطبی، کرمانی، عینی، شوکانی، آلوسی وغیرہم نے بے اصل اور من گھڑت قرار دیا ہے۔ تفصیل کے لیے مذکورہ بالا رسالہ ملاحظہ کریں۔ [2] صحيح البخاري، كتاب التفسير، باب تفسير سورة الحج (8/438، مع الفتح) [3] جماعت اسلامی کا نظریہ حدیث (ص: 90)