کتاب: مقالات حدیث - صفحہ 349
چاہیے۔ اسی طرح جو لوگ احادیث کی صحت کو اپنی ’آزاد عقل‘‘ کے معیار پر رکھنا چاہتے ہیں، ان سے بھی ادباً عرض کیجئے کہ رسول کی ’’مزاج شناسی‘‘ کا یہ انداز درست نہیں ؎
ایاز قدر خویش بشناس! [1]
قصہ غرانیق:
حدیثِ غرانیق کے متعلق میں نے عرض کیا تھا کہ محدثین کے نزدیک یہ ساقط الاعتبار ہے اور جن الفاظ سے محدثین نے اسے قابل استناد سمجھا ہے، اس میں کوئی خلش نہیں۔ [2]
ماہر صاحب فرماتے ہیں: ’’یہ عجیب تضاد ہے‘‘!
کیا عرض کیا جائے ؎
جو چاہے آپ کا ’’علم‘‘ کرشمہ ساز کرے
میری تو پھر بھی یہی مؤدبانہ گزارش ہے کہ حدیثِ غرانیق مختلف طرق اور الفاظ سے مروی ہے۔ جن طرق میں غرانیق کا صراحتاً ذکر ہے، اس کے تمام طرق مرسل ہیں۔ ایک مرسل طریق کے متعلق سیوطی فرماتے ہیں:
’’مرسل صحيح الإسناد‘‘ (روح المعاني، ص: 176، پاره 17) [3]
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
’’ابن جبیر کے سوا تمام طریق ضعیف اور منقطع ہیں۔ بزار کا طریق متصل اور صحیح ہے۔ کثرتِ طرق کی بنا پر کہا جا سکتا ہے کہ قصہ کی کچھ اصل ہے۔‘‘ [4] (روح المعاني، ص: 178، ملخصاً)
[1] ایاز اپنی قدر پہچان!
[2] جو صرف اس قدر ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورت نجم میں سجدہ کیا تو آپ کے ساتھ مسلمانوں، مشرکوں اور جن و انس نے بھی سجدہ کیا۔ صحيح البخاري، برقم (1021)
[3] الدر المنثور للسيوطي (6/66) روح المعاني (17/176)
[4] فتح الباري (8/354) روح المعاني (17/178)
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کا کلام ’’فتح الباری‘‘ میں بایں الفاظ ہے: ’’وكلها سوي طريق سعيد بن جبير إما ضعيف و إما منقطع لكن كثرة الطرق تدل علي أن للقصة أصلا‘‘ (فتح الباري: 8/354)