کتاب: مقالات حدیث - صفحہ 324
امام احمد رحمہ اللہ اور اسحاق بن راہویہ خبرِ واحد صحیح سے جو کچھ ثابت ہو، اس سے انکار کو کفر سمجھتے تھے۔ ابنِ قیم ایک مقام پر ان لوگوں پر اس طرح سے تعجب فرماتے ہیں: ’’یہ لوگ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث کو اس لیے نہیں مانتے کہ (وہ آحاد ہیں) ان سے علم حاصل نہیں ہوتا، اور ذہنی خیالات اور باطل شبہات کو قبول کر لیتے ہیں جو معتزلہ، جہمیہ اور فلاسفہ سے منقول ہیں اور ان کا نام ’’براہینِ عقلیہ‘‘ رکھ لیتے ہیں۔‘‘ (صواعق: 2/375) ابنِ قیم نے ’’صواعق مرسلہ‘‘ کی دوسری جلد کے قریباً ایک سو سے زائد صفحات معتزلہ کے اسی نظریہ کے خلاف لکھے ہیں جو انہوں نے خبرِ واحد کے متعلق ظاہر کیا اور اسی نظریہ کے سہارے پر سینکڑوں سننِ صحیحہ کا انکار کیا۔ حق کی جستجو کرنے والوں کو اس طرف توجہ کرنی چاہیے۔ حدیث کے متعلق تحقیقی مطالعہ کے لیے ’’موافقات‘‘ کا ’’باب السنۃ‘‘، ’’احکام ابن حزم‘‘ کا ’’باب السنۃ‘‘ اور ’’صواعق مرسلہ‘‘ کا یہ مقام ضرور دیکھنا چاہیے۔[1] دوسرا دور: معتزلہ کے اس حملہ سے صرف اہلِ حدیث اور حنابلہ محفوظ تھے۔ احناف، موالک، شوافع اور شیعہ سے بعض اہلِ علم اعتزال سے متاثر ہو گئے تھے۔ وہ فروع میں احادیث کو مانتے، آحاد کی ظنیت پر یقین کرتے تھے۔ احناف میں سے بشر مریسی (متوفی 668ھ) تو کھلے معتزلی ہیں۔ قاضی عیسیٰ بن ابان[2] (متوفی 221ھ) امام محمد کے شاگرد ہیں۔ مولانا عبد الحی نے ’’فوائد البہیہ‘‘ میں ان کا مختصر
[1] الإحكام لابن حزم (1/110) الموافقات للشاطبي (4/289) الصواعق المرسلة (2/375) [2] قاضی عیسیٰ بن ابان کا مسلک متقدمین ائمہ احناف میں مقبول نہ تھا، جیسے اصول بزدوی اور اس کی شرح سے ظاہر ہے۔ متاخرین احناف بھی اسے اپنا ہم نظریہ سمجھ کر اس سے استفادہ کرتے رہے اور مصراۃ وغیرہ کی روایت کو رد کرتے رہے۔ آج کل بعض نو آموز اور کم سواد حضرات اس غلط اور منحوس نظریہ کو حضرت امام سیدنا ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی طرف منسوب کرنے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ اس نظریہ کی کچھ آبرو رہ جائے یہ روایت ابو مطیع بلخی سے مروی ہے۔ روایت بالکل من گھڑت اور وضعی ہے، اس کی نسبت حضرت امام کی طرف بالکل جھوٹ ہے۔ ابو مطیع بلخی ائمہ نقد کے نزدیک ناقابلِ اعتماد ہیں۔ ذہبی فرماتے ہیں: وہ آثار کے ضبط میں واہی ہیں۔ ابن معین نے فرمایا: وہ راشی ہیں۔ نسائی نے انہیں ضعیف کہا۔ امام احمد رحمہ اللہ نے فرمایا: ان سے روایت درست نہیں۔ ابو داود نے کہا: یہ متروک الروایہ اور جہمی ہیں۔ ابن عدی نے کہا: ’’ان کا ضعف ظاہر ہے۔‘‘ ---