کتاب: مقالات حدیث - صفحہ 295
[1]
[1] 6۔ اس کے بعد معتزلہ اور متکلمین کے ساتھ متاخرین فقہاء کی ایک مختصر سی جماعت اصول اور فروع دونوں میں ان حضرات نے خبرِ واحد سے اختلاف کیا۔ 400ھ کے بعد 7۔ یورپین تہذیب سے مرعوب گروہ، مولوی چراغ علی، سرسید احمد خاں وغیرہ یہ حضرات فن سے قطعاً ناواقف تھے۔ ان کی تحقیق میں احادیث تاریخ کا ذخیرہ ہیں، جو ان کی نیچر کے موافق ہوں قبول کر لیا اور جو مخالف ہوں ترک کر دیا۔ 1300ھ کے قریب قریب 8۔ مولوی عبداللہ چکڑالوی، مستری محمد رمضان گوجرانوالہ، مولوی حشمت اللہ علی لاہوری، مولوی رفیع الدین ملتانی احادیث کا بالکلیہ انکار 1300ھ کے بعد 9۔ مولوی احمد دین صاحب امرتسری، مسٹر غلام احمد پرویز۔ یہ حضرات سرسید سے متاثر ہیں لیکن جاہل اور غیر محتاط۔ ان کے نزدیک قرآن و حدیث اور پورا دین ایک کھیل ہے یا زیادہ سے زیادہ ایک سیاسی نظریہ ہے جسے ہر وقت ہمیں بدلنے کا حق حاصل ہے۔ مولوی احمد دین بعض متواتر اعمال کو مستثنیٰ سمجھتے تھے 1400ھ 10۔ مولانا شبلی مرحوم، مولانا حمید الدین فراہی، مولانا ابو الاعلی مودودی، مولانا امین احسن اصلاحی اور عام فرزندانِ ندوہ، باستثنائے حضرت سید سلیمان ندوی رحمہ اللہ۔ یہ حضرات حدیث کے منکر نہیں لیکن ان کے اندازِ فکر سے حدیث کا استخفاف اور استحقار معلوم ہوتا ہے اور طریقہ گفتگو سے انکار کے لیے چور دروازے کھل سکتے ہیں۔ 1400ھ 1300ھ یہ جدول میرے ذاتی مطالعہ کا نتیجہ ہے، مجھے اس کے کسی حصہ پر اصرار نہیں۔ میں ممنون ہوں اگر مجھے میری لغزش سے آگاہ کیا جائے۔ میرے خیال میں تحریکِ انکارِ حدیث تدریجی ارتقا سے اس مقام تک پہنچی ہے۔ تحقیق و تثبت کے بعد حدیث کا ٹھیک وہی مقام ہے جو قرآنِ عزیز کا ہے اور فی الحقیقت اس کے انکار کا ایمان و دیانت پر بالکل وہی اثر ہے جو قرآنِ عزیز کے انکار کا۔ قرآنِ عزیز کے الفاظ کی تاویل میں جب اختلاف ہو تو اس کے الفاظ کی قطعیت میں شبہ نہیں ہو گا، لیکن مفہوم کی تاویل اور اس کے تعین میں بحث رہے گی۔ جو تاویل