کتاب: مقالات حدیث - صفحہ 294
[1]
[1] کوشش، ممکنات تک محدود ہے، اس سے زیادہ کی تکلیف نہ اسے قدرت نے دی ہے نہ وہ اس کا مکلف ہے۔ خبرِ واحد اور اس پر بحث و نظر: پہلی صدی ہجری اسلامی روایات کا مقدس دور ہے۔ شریعت کی علمی اور عملی روایات اس وقت اپنے جوبن پر تھیں۔ جو کچھ اس وقت ہوا وہ اسلامی نقطہ نظر سے بہت حد تک احترام و قبول کا مستحق ہے۔ ابنِ حزم فرماتے ہیں کہ پہلی صدی ہجری میں خبر واحد بلا انکار قبول کی جاتی تھی۔ اہلِ سنت، خوارج، شیعہ، قدریہ، سب اسے قبول کرتے تھے۔ پہلی صدی کے بعد متکلمین معتزلہ نے اس میں اجماعِ امت کی مخالفت کی۔ (إحكام الأحكام: 1/114) شیخ محمد ابراہیم الوزیر الیمنی (870ھ) فرماتے ہیں: ’’وقد انعقد إجماع المسلمين علي وجوب قبول الثقات فيما لا يدخله النظر، وليس ذلك بتقليد، بل عمل بمقتضي الأدلة القاطعة، الموجبة لقبول خبر الآحاد، وهي محررة في موضعها، من فن الأصول، ولم يخالف في هٰذا إلا شرذمة يسيرة، وهم متكلموا بغداد من المعتزلة، والإجماع منطبق قبلهم و بعدلهم، علي بطلان قولهم‘‘ (الروض الباسم، ص: 32) ’’ثقات کی ایسی خبریں جن پر کوئی اعتراض نہ ہو، ان کے قبول پر اہلِ اسلام کا اجماع ہے، اور یہ تقلید نہیں بلکہ قطعی دلائل کا تقاضا ہے جن کا مفاد یہ ہے کہ اخبارِ آحاد کا قبول اور ان سے احتجاج ضروری ہے۔ یہ مسئلہ فن اصول میں اپنی جگہ مرقوم ہے اور بغداد کے معتزلہ متکلمین کے سوا کسی نے اس کی مخالفت نہیں کی، بلکہ اس پر اجماع پہلے بھی تھا اور اب بھی ہے۔‘‘ اخبارِ آحاد پر اعتراض عموماً ان لوگوں نے کیا جو انسانی نفسیات سے ناواقف اور ان کی حدودِ امکان سے ناآشنا تھے۔ آج بھی اس میں وہی نیچر پرست شبہات کی راہیں پیدا کر رہے ہیں جو زمین پر بیٹھ کر آسمان کی باتیں کرنے کے عادی ہیں۔ چنانچہ مختلف ادوار میں اخبارِ آحاد کے خلاف انہی حلقوں سے آواز اٹھی، جو یا تو خود بدعت کے داعی تھے یا اہلِ بدعت سے ایک گونہ متاثر تھے۔ جیسا کہ ذیل کے نقشہ سے واضح ہو گا: منکرین کون سی احادیث کا؟ کب؟ 1۔ خوارج جو اہلِ بیت کے فضائل میں تھیں۔ 220ھ 2۔ شیعہ جو احادیث صحابہ رضی اللہ عنہم کے فضائل میں تھیں۔ 200ھ 3۔ معتزلہ اور جہمیہ احادیثِ صفاتِ الٰہی 4۔ قاضی عیسیٰ بن اَبان اور ان کے اَتباع جو احادیث غیر فقیہ صحابہ رضی اللہ عنہم سے مروی ہیں۔ 221ھ 5۔ متاخرین فقہاء سے قاضی ابو زید دبوسی وغیرہ ایضاً ایضاً