کتاب: مقالات حدیث - صفحہ 293
[1]
[1] کا وجود چونکہ نسبتاً کم ہے، دنیا اور دین کے تمام کاروبار کا انحصار خبرِ واحد پر ہے، دینی مسائل بھی اکثر خبرِ واحد ہی سے ہم تک پہنچے ہیں اور دنیا کی پیشتر اطلاعات میں بھی خبرِ واحد کار فرما ہے۔ حکومت سے لے کر عوام الناس تک اگر خبر واحد پر اعتماد کرنا ترک کر دیں تو کاروبار کا پورا کارخانہ برباد اور تباہ ہو کر رہ جائے۔ دوسری طرف تواتر کے عدد کا کسی کام کے لیے اجتماع ناممکنات سے ہے۔ اسی طرح انبیاء علیہم السلام وفود بھیجتے، ان وفود کی اطلاعات پر لڑائیاں لڑی جاتیں، ہزاروں جانیں ضائع ہو جاتیں، مگر خبرِ واحد کی افادی حیثیت کبھی زیرِ بحث نہیں آئی۔ قرآن مجید میں فرمایا: ﴿إِن جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوا أَن تُصِيبُوا قَوْمًا بِجَهَالَةٍ فَتُصْبِحُوا عَلَىٰ مَا فَعَلْتُمْ نَادِمِينَ ﴾ (الحجرات: 6) ’’جب کوئی فاسق آدمی تمہیں اطلاع دے تو اس خبر کی تحقیق کر لو، ایسا نہ ہو کہ بعد میں ندامت اٹھانی پڑے۔‘‘ فاسق کی خبر کو مسترد کرنے کا حکم نہیں دیا گیا، البتہ تحقیق و تثبت کی تائید فرمائی گئی ہے۔ آیت میں وصفِ فاسق کی تخصیص سے ظاہر ہے کہ ثقہ اور متدین آدمی کی اطلاع کے لیے یہ بھی چنداں ضروری نہیں۔ اس سے ظاہر ہے کہ خبرِ واحد کو دین اور دنیا کے معاملات میں کس قدر اہمیت حاصل ہے۔ منافقینِ کے ارجاف سے بچنے کے لیے یہ تجویز نہیں کہ ان کی باتوں پر اعتبار کرنا چھوڑ دو، بلکہ یہ فرمایا: ایسی خبریں اہلِ علم اور اہلِ استنباط کی طرف لوٹائی جائیں تاکہ وہ ان سے صحیح نتائج اخذ کر سکیں۔ تبلیغ و موعظت کی ضرورت کے پیش نظر فرمایا: ﴿فَلَوْلَا نَفَرَ مِن كُلِّ فِرْقَةٍ مِّنْهُمْ طَائِفَةٌ لِّيَتَفَقَّهُوا فِي الدِّينِ وَلِيُنذِرُوا قَوْمَهُمْ إِذَا رَجَعُوا إِلَيْهِمْ ﴾ (التوبۃ: 122) یعنی ہر گروہ سے کچھ لوگ علم و فقہ کے لیے سفر کریں اور واپس آ کر اپنی قوم کو ڈرائیں۔ طائفہ کا لفظ ایک اور اس سے زائد کے لیے مستعمل ہوتا ہے، اور یہ خبرِ واحد ہی ہو گی۔ ان کے علم و انذار پر کوئی عددی پابندی نہیں لگائی گئی کہ جب تک وہ پچاس نہ ہو جائیں کوئی بات زبان سے نہ کہیں۔ معلوم ہے جب وہ کہیں گے تو قرآن عزیز کی ہدایت کے مطابق ان کے ارشادات پر لازماً اعتماد ہو گا۔ خبرِ واحد کی حجیت اور اعتماد کے متعلق قرآن عزیز کی یہ صراحت ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی پابندی نہیں لگائی گئی کہ جب تک مخاطبین کی تعداد حد تواتر تک نہ پہنچ جائے آپ کوئی لفظ زبان سے نہ فرمائیں۔ اگر خبرِ واحد شرعاً مستند نہ ہوتی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات پر ضرور کوئی نہ کوئی پابندی لگائی جاتی۔ ظاہر ہے خبرِ واحد شرعی حجت ہے۔ اسی لیے ائمہ سنت نے تثبت اور تحقیق کے بعد اسے حجت مانا ہے۔ قرائن کے بعد اُسے پوری اہمیت دی ہے اور جو اس سے ثابت ہو، اسے علم کی حیثیت سے قبول فرمایا ہے۔ سلسلہ احادیث میں اکثر اخبارِ آحاد ہیں، ائمہ حدیث نے جہاں ضرورت محسوس کی، تحقیق اور تبیُّن فرمایا۔ قرائن کی چھان پھٹک فرمائی ہے، اس کے لیے اصول وضع فرمائے اور اسے قبول فرمایا۔ یہی ممکن تھا، امکان کی حدود سے آگے انسان کے اختیار کی چیز نہیں۔ اس کا عمل اور علم سعی اور