کتاب: مقالات حدیث - صفحہ 275
[1]’’مظنونات کو من حیث الکل قبول کر لینا جس درجہ کی غلطی ہے، اسی درجہ کی غلطی من حیث الکل رد کر دینا بھی ہے۔‘‘ (تفہیمات، ص: 314) مولانا کا مشورہ یہ ہے کہ منکرینِ حدیث کو پورے ذخیرے کا انکار نہیں کرنا چاہیے۔ (میرا خیال ہے کہ منکرین حدیث سے پرویز پارٹی شاید مولانا کی تجویز سے اتفاق کر لے)۔ اس کے بعد مولانا فرماتے ہیں: ’’آحاد کو رد کرنے سے دین میں جامعیت نہیں رہے گی۔ قرآن سے اور متواتر احادیث سے اسلام کا مکمل نظامِ حیات نہیں مل سکتا۔ صرف اخبار آحاد ہی ہیں جو ہم تک ہدایات کا عظیم الشان ذخیرہ بہم پہنچاتی ہیں۔‘‘ (تفہیمات، ص: 314) یہ اندازِ بیان کتنا ہی معذرت خواہانہ کیوں نہ ہو، مگر درست ہے۔ طریقِ ادا میں کتنی مسکنت اور کمزوری ہو، مگر مجارات مع الخصم کے طریق پر مولانا نے جو فرمایا، مناسب ہے۔ طریقِ ادا سے اختلاف کیا جا سکتا ہے، مگر جو فرمایا کافی حد تک صحیح ہے۔
[1] ’’ظن اس (علم) کا نام ہے جو علامات اور قرائن سے حاصل ہو۔ جب یہ قرائن پختہ ہوں تو ان سے علم و یقین حاصل ہوتا ہے، کمزور ہوں تو وہم سے کم نہیں۔ جب یہ قرائن قوی ہوں یا ان کے قوی ہونے کا خیال ہو تو ان کے ساتھ ’’اَنْ‘‘ مشددہ اور مخففہ استعمال ہوتے ہیں۔‘‘ ظاہر ہے کہ ظن کو علی الاطلاق غیر ثابت شدہ کہنا قطعاً غلط ہے اور اس نظریہ پر جو نتائج مرتب ہوں گے وہ بھی غلط ہی ہوں گے۔ اصل حکم ان امارات اور قرائن پر ہو گا جن سے ظن حاصل ہوا۔ ائمہ حدیث کی اصطلاح میں ’’ظن‘‘ علم کے ایک خاص مرتبہ کا نام ہے۔ متواتر سے بدیہی علم حاصل ہوتا ہے۔ آحاد میں جب قرائنِ صدق موجود ہوں اور ان قرائن کے قوت و ضعف کے پیش نظر جو علم حاصل ہو اُسے وہ ظن سے تعبیر کرتے ہیں۔ ائمہ نے اس علم کے متعلق فرمایا کہ یہ موجب عمل ہے۔ پھر جن ائمہ نے تواتر میں عدد کے علاوہ اوصافِ رواۃ کو بھی ملحوظِ خاطر رکھا ہے یا جن روایات کو تلقی بالقبول کا مقام حاصل ہو، ان سے علمِ نظری ہونا بھی مسلّم ہے۔ گویا یہ ایسا ظن ہے جس سے علمِ نظری حاصل ہو سکتا ہے۔ مولانا غور فرمائیں! آیا غیر ثابت شدید چیز موجبِ عمل ہو سکتی ہے یا اس سے علمِ نظری حاصل ہو سکتا ہے؟ -- عام اہلِ قرآن ظن کو وہم کے مترادف سمجھ کر اسے غیر ثابت شدہ تصور کرتے ہیں۔ مولانا نے ذہول یا مساخت سے اسی غلط استعمال کی بنا پر ہر ظن کو غیر ثابت شدہ فرما دیا اور جب اس کے نتائج پر نظر پڑھی تو غیر ثابت شدہ کو قبول کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا۔ ’’صلت علي الأسد و بلت عن النقد‘‘۔ ائمہ فن کی اصطلاح کے مطابق ظن علم کے اس مرتبہ کا نام ہے جو بداہت سے کم ہو۔ علم نظری اور اس کے جملہ مراتب اس میں شامل ہیں۔ ان قرائن کی بنا پر محدثین نے قوت اور ضعف کے مراتب متعین فرمائے ہیں۔ (مؤلف)