کتاب: مقالات حدیث - صفحہ 274
ذہنی انتشار ’’مسلک اعتدال‘‘ قریباً تیرہ صفحات پر پھیلا ہوا ہے۔ پورا مضمون پڑھ لینے کے بعد ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مصنف علّام جو کچھ لکھ رہے ہیں، اس پر خود بھی مطمئن نہیں۔ پورے مضمون میں ذہنی انتشار نمایاں ہے۔ اس مضمون کو تین حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے: پہلا حصہ: پہلے حصہ میں مولانا منکرینِ حدیث سے اتفاق فرماتے ہیں کہ ’’احادیث ظنی تو ہیں اور ظنی چیز ثابت [1] شدہ نہیں ہوتی۔ لیکن کسی چیز کا ثابت شدہ نہ ہونا یہ کب معنی رکھتا ہے کہ وہ رد ہی کر دینے کے قابل ہو؟‘‘ (تفہیمات، ص: 312) اس لیے احادیث کو کلیتاً رد کر دینا درست نہیں۔ ارشاد ہے:
[1] معلوم نہیں مولانا کس انداز میں گفتگو فرما رہے ہیں؟ شرعی اصطلاح تو یہی ہے کہ غیر ثابت شدہ مسائل کو رد کر دیا جائے۔ پھر یہ ارشاد کہ ’’ظنی چیز ثابت شدہ نہیں ہوتی‘‘ اگر ظن بمعنی وہم ہو تو ارشاد درست ہے، لیکن قرآن حکیم نے ظن کو وہم کے مترادف صرف اس وقت فرمایا جب وہ حق کے مقابل ہو: ﴿إِنَّ الظَّنَّ لَا يُغْنِي مِنَ الْحَقِّ شَيْئًا﴾ (یونس: 36) قرآن میں ظن حقیقتِ ثابتہ کے معنی میں استعمال ہوا ہے: (1) ﴿وَأَنَّا ظَنَنَّا أَن لَّن نُّعْجِزَ اللّٰه فِي الْأَرْضِ وَلَن نُّعْجِزَهُ هَرَبًا﴾ (الجن: 12) ’’یہ قطعی حقیقت ہے کہ ہم زمین میں نہ خدا تعالیٰ کو عاجز کر سکتے ہیں اور نہ ہی اس کی بارگاہ سے بھاگ سکتے ہیں۔‘‘ (2) ﴿الَّذِينَ يَظُنُّونَ أَنَّهُم مُّلَاقُو رَبِّهِمْ﴾ (البقرۃ: 46) ’’انہیں یقین ہے کہ وہ اللہ سے ملیں گے۔‘‘ (3) ﴿وَظَنَّ أَنَّهُ الْفِرَاقُ﴾ (القیامۃ: 28) ’’اسے یقین ہوتا ہے کہ اب جدائی کا وقت آ گیا ہے۔‘‘ (4) ﴿أَلَا يَظُنُّ أُولَـٰئِكَ أَنَّهُم مَّبْعُوثُونَ﴾ (المطففین: 4) ’’کیا انہیں یقین نہیں کہ وہ اٹھائے جائیں گے؟‘‘ (5) ﴿وَظَنَّ أَهْلُهَا أَنَّهُمْ قَادِرُونَ عَلَيْهَا﴾ (یونس: 24) ’’ان کو یقین ہو گیا کہ وہ اس پر قادر ہیں۔‘‘ راغب نے ظن کے متعلق ایک قاعدہ ذکر فرمایا ہے: ’’الظن اسم لما يحصل عن أمارة، ومتي قويت أدت إلي العلم، ومتي ضعفت جدا لم يتجاوز حد التوهم، ومتي قوي أو تصور القوي استعمل معه أن المشددة و أن المخففة ۔۔۔ الخ‘‘ (مفردات، ص: 2/54) ---