کتاب: منہج اہل حدیث - صفحہ 64
ہوں جبکہ ان کے امام صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے یہ فرمایا ہےکہ: "بیشک اللہ عزوجل نے تمہارے لئے تین چیزوں کو پسند فرمایا ہے اور تین چیزوں کو ناپسند فرمایا ہے : (اور وہ یہ ہیں ) کہ تم صرف اللہ عزوجل کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو ، اور یہ کہ تم اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھا م لو اور تفرقہ بازی نہ کرو۔۔۔۔ "[1]۔اور ان کے رب نے بھی ان سے یہ فرمایا ہے کہ: [وَلَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِيْنَ تَفَرَّقُوْا وَاخْتَلَفُوْا مِنْۢ بَعْدِ مَا جَاۗءَھُمُ الْبَيِّنٰتُ ۭ وَاُولٰۗىِٕكَ لَھُمْ عَذَابٌ عَظِيْمٌ ؁يَّوْمَ تَبْيَضُّ وُجُوْهٌ وَّتَسْوَدُّ وُجُوْهٌ]"(آل عمران (105-107)، ترجمہ : تم ان لوگوں کی طرح نہ ہو جانا جنہوں نے اپنے پاس روشن دلیلیں آ جانے کے بعد بھی تفرقہ ڈالا اور اختلاف کیا انہی لوگوں کے لئے بڑا عذاب ہے۔جس دن بعض چہرے سفید ہونگے اور بعض سیاہ"۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : "اہل سنت کے چہرے سفید ہوں گے اور اہل بدعت کے چہرے سیاہ ہوں گے"۔ اہل سنت والجماعت سے الگ ہوجانے والے اہل بدعت کا منہج استدلال : 1۔ عقیدہ سمیت دین کے تمام مباحث میں دلیل شرعی (قرآن و حدیث) پر انحصار نہ کرنا، بلکہ اہل بدعت تمام اہم مباحث بشمول عقیدہ میں منطق اور فلسفہ کو بھی دلیل تصور کرتے ہیں ، اس سے استدلال کرتے ہیں ،اور اسے عقلیات کا نام دیتے ہیں۔ اسی طرح اہل بدعت ایسی من گھڑت حکایات اور واقعات سے بھی استدلال کرتے ہیں جن کی کوئی بنیاد نہیں ہے، اسی طرح وہ ایسی روایات اور احادیث کو بھی دلیل کے طور پر پیش کرتے ہیں جو بالکل من گھڑت اور موضوع ہیں، اور صوفیوں کے خود ساختہ کشف اور ذوق سے بھی دینی مباحث میں استدلال کرتے ہیں۔ 2۔ اہل بدعت ،طریقہ استدلال میں اہل سنت والجماعت کے ہاں معتبر قواعد کا لحاظ نہیں کرتے ، اسی لئےوہ متشابہ دلائل[2]کی پیروی کرتے ہیں اور اس متشابہ دلیل کو محکم (واضح) پر پیش نہیں کرتے، مجمل لفظ سے استدلال کرتے ہیں اسے مبیّن لفظ کی طرف نہیں لوٹاتے، وعد ہ اور وعید کے نصوص کو جمع نہیں کرتے [3]، نہ ہی نفی اور اثبات کے دلائل کو جمع کرتے ہیں ، اور نہ ہی عموم وخصوص کے دلائل کو جمع کرتے ہیں۔ [1] صحیح مسلم (کتاب الاقضیۃ : 1715) [2] یعنی ایسے دلائل جن کے معنی میں اس لحاظ سے پیچیدگی ہو کہ اس سے حق معنی بھی ثابت ہوتا ہو اور باطل معنی بھی تو، اہل بدعت ان متشابہہ دلائل کا باطل معنی مراد لے کر ان سے استدلال کرتے ہیں ۔ اس استدلال کی کچھ مثالیں آگے چل کر بیان ہوں گی۔ [3] یعنی یا تو صرف ایسی آیات اور احادیث کو لے لیتے ہیں جو اللہ تعالی کی مغفرت کے وعدوں پر مشتمل ہیں اور یہ عقیدہ رکھ لیتے ہیں کہ گناہوں کی وجہ سے ایمان کم نہیں ہوتا ، یا بھر صرف ایسی آیات اور احادیث کو لیتے ہیں جو محض اللہ تعالی کی وعیدوں پر مشتمل ہوتی ہیں اور پھر گناہ کبیرہ کے مرتکب ایک مسلمان کو بھی ابدی جہنمی قرار دیتے ہیں ۔ جبکہ اعتدال یہ ہے کہ وعدہ اور وعید دونوں کو جمع کیا جائے اور یہ عقیدہ رکھا جائے کہ گناہوں کے سبب ایمان میں کمی واقع ہوتی ہے اور بسا اوقات انسان اپنے ایمان سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتا ہے ، اسی طرح یہ بھی عقیدہ رکھاجائے کہ اللہ تعالی شرک کے علاوہ تمام گناہوں کو معاف فرما دے گا ، یا تو بغیر عذاب کے یا پھر عذاب دے کر اور کبیرہ گناہ کے مرتکب لوگ بھی اگر اہل توحید ہیں تو بالآخر جنت میں داخل ہوں گے۔