کتاب: منہج اہل حدیث - صفحہ 17
2۔ اسلام سے وہ عقیدہ اور شریعت بھی مراد ہے جسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم لے کر آئے ، اور جس کے ساتھ اللہ عزوجل نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو خاص فرمایا، اور اسی معنی پر اللہ عزوجل کا یہ فرمان بالکل صادق آتا ہے کہ : {وَرَضِيْتُ لَكُمُ الْاِسْلَامَ دِيْنًا}(المائدة: 3) ’’میں نے تمہارے لئے اسلام کو(بطور) دین پسند کیا‘‘، اور اللہ عزوجل کا یہ فرمان بھی کہ: {لِكُلٍّ جَعَلْنَا مِنْكُمْ شِرْعَةً وَّمِنْهَاجًا}(المائدة: 48)’’ہم نے تم میں سے ہر ایک کے لیے ایک شریعت اور طریقہ مقرر کردیا ہے‘‘۔اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: ’’ہم انبیاء کی جماعت علاتی بھائی ہیں (جن کا والد ایک اور مائیں الگ الگ ہوں)، ہمارا دین ایک ہی ہے"[1]،[2]۔ سنت: سنت کا لغوی معنی ہے طریقہ اور راستہ۔اللہ عزوجل کا فرمان ہے: {وَيَهْدِيَكُمْ سُنَنَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ} (النساء: 26) ’’اور تمہیں ان (نیک) لوگوں کی راہوں پر چلائے جو تم سے پہلے ہوگزرے ‘‘۔ قاموس میں ہے کہ:’’سنت سے مراد طریقہ ہے ، چاہے وہ اچھا ہو یا برا‘‘۔ محدثین کے نزدیک سنت کی تعریف: سنت سے مراد ہر وہ قول ، وہ فعل ،چاہے کوئی کام کرنے کے حوالہ سے ہو یا ترک کرنے کے حوالہ سے- اور وہ تقریر [3]یا صفت ہے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہو۔ اہل اصول [4]کے نزدیک سنت کی تعریف: سنت سے مراد قرآن کے علاوہ وہ تمام اقوال ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام اقوال –جسے حدیث بھی کہا جاتا ہے- اور تمام افعال اور تقریر ہے۔ سنت کے قرآن کے ساتھ تعلق کے مختلف پہلو: 1۔سنت قرآن کے موافق ہو[5] ، اس وقت سنت کی حیثیت ،قرآن کے لئے بطور تاکید و تائید کے ہوگی، اس کی چند مثالیں درج ذیل ہیں: [1] اس حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ توحید کے حوالہ سے تمام انبیاء کی تعلیمات یکساں ہیں ، ان میں کوئی فرق نہیں ، البتہ عبادت اور معاملات وغیرہ کے شرعی احکامات میں فرق ہوسکتا ہے، اور کئی شریعتوں میں یہ فرق موجود بھی رہاہے(از مترجم)۔ [2] صحیح بخاری (کتاب احادیث الانبیاء : 3442) [3] تقریر سے مراد وہ عمل ہے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں کسی صحابی نے کیا ہو یا اس عمل کی خبر نبی صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچی ہو اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عمل کو برقرار رکھا ہو۔ [4] اہل اصو ل سے مراد وہ علماء ہیں جو قرآن و حدیث سے احکام کا استنباط کرنے کے لئے قواعد کلیہ یا اصول وضع کرتے ہیں ۔ [5] یعنی قرآن میں بیان کردہ حکم بعینہ سنت میں بیان ہو۔