کتاب: مجموعہ رسائل عقیدہ(جلد3) - صفحہ 97
’’صوفی‘‘ اور ’’فقیر‘‘ کا لفظ ایجاد ہوا، مگر اولیا کا یہ عرف اور پہچان حادث ہے۔ ان جملہ اصناف میں جو شخص اللہ تعالیٰ سے سب سے زیادہ ڈرتا ہے، وہی اللہ کے ہاں بڑا بزرگوار ہے۔ جب دو شخص تقوے میں برابر ہوں تو وہ اللہ کے نزدیک بھی درجے میں برابر ہوں گے۔ ولایت پیری مریدی پر موقوف نہیں ہے، بلکہ اس کے لیے تقوی و طہارت درکار ہے۔ اولیا پر واجب ہے کہ وہ کتاب و سنت کا اتباع کریں اور ہر بدعت سے گریز کریں، ورنہ ان کی ولایت میں نقص پیدا ہو گا۔ اولیا میں سے کوئی معصوم نہیں ہوتا ہے کہ وہ جو کچھ کہے یا کرے، کتاب و سنت کا اعتبار کیے بغیر اس کی پیروی کی جائے۔ اس عقیدے پر سارے اولیا کا اتفاق ہے۔ جس نے اس کے خلاف کوئی بات کہی، وہ اللہ کا ولی نہیں ہے بلکہ وہ کافر ہے یا جہالت کی وجہ سے کوتاہی کا مرتکب۔ اولیاے رحمان اور اولیاے شیطان کی شناخت کے لیے کتاب ’’الفرقان‘‘[1] کا مطالعہ کافی وافی ثابت ہو گا۔ علمِ دین کی فضیلت: علمِ دین کو عبادت پر کلی فضیلت حاصل ہے اور کثرتِ علم کثرتِ عبادت سے بہتر ہے۔ ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (( إِنَّمَا بُعِثْتُ مُعَلِّماً )) [2] [مجھے تو صرف معلم بنا کر معبوث کیا گیا ہے] آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا فرمایا کرتے تھے: ﴿رَبِّ زِدْنِیْ عِلْماً﴾[اے میرے رب! میرے علم میں اضافہ فرما] وہ آفات و بلیات جو علم پر طاری ہوتی ہیں، وہ ان آفات کی نسبت بہت کم ہیں جو آفات زہد و عبادت میں لاحق ہوتی ہیں۔ چنانچہ حدیث میں آیا ہے: ’’ ایک فقیہ ہزار عابد سے زیادہ شیطان پر بھاری ہوتا ہے۔‘‘[3] اللہ تعالیٰ نے بھی فرمایا ہے: [1] امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی کتاب ’’الفرقان بین أولیاء الرحمان وأولیاء الشیطان‘‘ مراد ہے۔ [2] سنن ابن ماجہ، رقم الحدیث (۲۲۹) اس کی سند میں داؤد بن زبرقان، بکر بن خنیس اور عبد الرحمن بن زیاد؛ تینوں راوی ضعیف ہیں، لہٰذا یہ حدیث ضعیف ہے۔ [3] سنن ابن ماجہ (۲۲۲) اس کی سند میں ’’ابو سعد روح بن جناح‘‘ راوی متہم ہے، لہٰذا یہ روایت موضوع ہے۔