کتاب: مجموعہ رسائل عقیدہ(جلد3) - صفحہ 92
تو اس کی شفاعت نہیں ہوگی۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: ﴿ اِنَّ اللّٰہَ لَا یَغْفِرُ اَنْ یُّشْرَکَ بِہٖ وَ یَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِکَ لِمَنْ یَّشَآئُ وَمَنْ یُّشْرِکْ بِاللّٰہِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلٰلًا بَعِیْدًا﴾[النسآئ: ۱۱۶] [بے شک اللہ اس بات کو نہیں بخشے گا کہ اس کا شریک بنایا جائے اور بخش دے گا جو اس کے علاوہ ہے جسے چاہے گا اور جو اللہ کے ساتھ شریک بنائے تو یقینا وہ بھٹک گیا، بہت دور بھٹکنا] ریاکاری، تصورِ شیخ، ربط القلب بالشیخ، غیر اللہ سے استغاثہ اور استعانت بغیر اللہ وغیرہ سب شرک خفی کی اقسام ہیں، جن کا مرتکب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مذکورہ شفاعت کا مستحق نہ ہو گا۔ احوالِ قبر: قبر میں عذاب و تنعیم کا ہونا، منکر اور نکیر کا سوال کرنا اور قبر کا دبانا حق ہے، جو دلائل سمعیہ اور براہین نقلیہ سے ثابت ہے۔ فرمانِ باری تعالیٰ: ﴿ اَلنَّارُ یُعْرَضُوْنَ عَلَیْھَا غُدُوًّا وَّعَشِیًّا﴾[الغافر: ۴۶] [جو آگ ہے، وہ اس پر صبح و شام پیش کیے جاتے ہیں] عذابِ قبر ہی کے متعلق ہے۔ نیز اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَ لَنُذِیْقَنَّھُمْ مِّنَ الْعَذَابِ الْاَدْنٰی دُوْنَ الْعَذَابِ الْاَکْبَرِ﴾[السجدۃ: ۲۱] [اور یقینا ہم انھیں قریب ترین عذاب کا کچھ حصہ سب سے بڑے عذاب سے پہلے ضرور چکھائیں گے] اس آیت میں عذاب ادنا سے عذابِ قبر اور عذابِ اکبر سے عذابِ آخرت مراد ہے۔ ایک حدیث میں آیا ہے: (( اَلْقَبْرُ رَوْضَۃٌ مِنْ رِیَاضِ الْجَنَّۃِ أَوْحُفْرَۃٌ مِنْ حُفَرِالنَّارِ )) [1] [قبر جنت کے باغوں میں سے ایک باغیچہ ہے یا آگ کے گڑھوں میں سے ایک گڑھا ہے] پھر یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور سلف صالحین کا عذابِ قبر سے پناہ طلب کرنا مشہور و مستفیض [1] سنن الترمذي، رقم الحدیث (۲۴۶۰) اس کی سند میں ’’عبیداللہ بن ولید‘‘ اور ’’عطیہ‘‘ دو راوی ضعیف ہیں۔ نیز یہ روایت ابو ہریرۃ رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے۔ دیکھیں: المعجم الأوسط (۸/۲۷۲) لیکن اس کی سند بھی سخت ضعیف ہے، کیونکہ اس کی سند میں ’’محمد بن ایوب‘‘ متروک ہے۔