کتاب: مجموعہ رسائل عقیدہ(جلد3) - صفحہ 88
ٹھہرانا کفر ہے۔ کچھ فرشتے بندوں کے اعمال لکھنے پر مقرر ہیں۔ وہ بندے کو ہلاکت میں پڑنے سے بچاتے ہیں، نیکیوں کی طرف دعوت دیتے ہیں، دل میں خیر و بھلائی کی فکر ڈالتے ہیں۔ ہر فرشتے کی ایک الگ معلوم جگہ مقرر ہے۔ فرشتوں کا دلی خیالات پر اثر یہ ہوتا ہے کہ بندے کو خیر و بھلائی کے ساتھ انس اور اس کی طرف رغبت ہوتی ہے اور شیاطین کا اثر یہ ہوتا ہے کہ دل میں وحشت محسوس ہوتی ہے اور شرو برائی کی طرف رغبت پیدا ہوتی ہے۔ فرشتے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہیں کرتے۔ انھیں جو حکم ہوتا ہے، وہی کرتے ہیں۔ شیاطین ابن آدم کے دل میں شر ڈالتے اور خون کی طرح رگوں میں دوڑتے پھرتے ہیں اور وسوسہ انگیز ہوتے ہیں۔ فرمانِ باری تعالیٰ ہے: ﴿ اِنَّ الشَّیْطٰنَ لَکُمْ عَدُوٌّ فَاتَّخِذُوْہُ عَدُوًّا اِنَّمَا یَدْعُوْا حِزْبَہٗ لِیَکُوْنُوْا مِنْ اَصْحٰبِ السَّعِیْرِ﴾[الفاطر: ۶] [بے شک شیطان تمھارا دشمن ہے تو اسے دشمن ہی سمجھو۔ وہ تو اپنے گروہ والوں کو صرف اس لیے بلاتا ہے کہ وہ بھڑکتی آگ والوں سے ہو جائیں] فرشتے اور شیاطین کے وجود کا انکار صریح کفر ہے۔ ابلیس جن تھا۔ فرشتے نور سے اور جن و شیاطین آگ سے پیدا ہوئے ہیں اور آدمی مٹی سے۔ قرآن مجید کلام الٰہی ہے: قرآن مجید اللہ تعالیٰ کا کلام ہے جو اس نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کیا ہے۔ صحیح حدیث میں قرآن مجید پر حرف اور صوت (آواز) کے اطلاق کا ذکر موجود ہے۔[1] قرآن مجید کو کلام نفسی کہنا بے دلیل ہے۔ قرآن مجید پڑھی جانے والی، تلاوت کی جانے والی، سنی جانے والی، لکھی جانے والی اور حفظ کی جانے والی کتاب ہے۔ قرآن مجید میں وحی کی حقیقت کو یوں بیان کیا گیا ہے: ﴿وَمَا کَانَ لِبَشَرٍ اَنْ یُّکَلِّمَہُ اللّٰہُ اِِلَّا وَحْیًا اَوْ مِنْ وَّرآیِٔ حِجَابٍ اَوْ یُرْسِلَ رَسُوْلًا فَیُوحِیَ بِاِِذْنِہٖ مَا یَشَآئُ﴾[الشوریٰ: ۵۱] [1] سنن الترمذي، رقم الحدیث (۲۹۱۰)