کتاب: مجموعہ رسائل عقیدہ(جلد3) - صفحہ 84
رویتِ باری تعالیٰ: قیامت کے دن جنت میں جانے سے پہلے اور جنت میں جانے کے بعد مومن اللہ تعالیٰ کو اپنی آنکھوں سے دیکھیں گے، جس طرح وہ چودھویں رات کے چاند کو دیکھتے ہیں، جس کے دیکھنے میں کوئی دھوکا اور شک و شبہہ نہیں ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا یہ دیدار دو طرح سے ہو سکتا ہے۔ ایک تو یہ کہ مومن بندے نے اللہ تعالیٰ کی عقل سے جو تصدیق کی تھی، اس کے سامنے اللہ تعالیٰ کا اس سے زیادہ مکمل طور پر انکشاف ہوگا، گویا وہ آنکھ سے دیکھ رہا ہے۔ مگر اس دیکھنے میں اللہ کے رو در رو، آمنے سامنے، کسی جہت میں اس کے رنگ اور شکل و صورت کا دیکھنا کچھ بھی نہیں ہو گا، معتزلہ اسی کے قائل ہیں۔ معتزلہ کے اس موقف میں غلطی یہ ہے کہ انھوں نے رویت کو اسی ایک صورت میں منحصر سمجھ لیا ہے۔ دوسرا دیکھنا اس طرح ہے کہ اللہ تعالیٰ بہت سی صورتوں میں مخلوق کے سامنے ظاہر ہو گا، جیسا کہ ایک حدیث میں آیا ہے: (( إِنَّ اللّٰہَ یَتَجَلّٰی بِصُوَرٍ کَثِیْرۃٍ لِأَہْلِ الْمَوْقَفِ )) [یقینا اللہ تعالیٰ (قیامت کے دن) محشر والوں کے لیے مختلف صورتوں میں جلوہ گر ہو گا] ایک حدیث میں یوں فرمایا: (( أَدْخُلُ عَلٰی رَبِّيْ وَھُوَ عَلٰی کُرْسِیِّہٖ )) [ میں اپنے رب کے پاس اس وقت آؤں گا، جب وہ اپنی کرسی پر جلوہ افروز ہو گا] ایک حدیث میں اس طرح فرمایا ہے: (( إِنَّ اللّٰہَ یُکَلِّمُ ابْنَ آدَمَ شَفَاھاً ))[1] [یقینا اللہ تعالیٰ (قیامت کے دن) ابن آدم سے بالمشافہہ کلام کرے گا] اس صورت میں دیدارِ الٰہی ذاتِ الٰہی کی صورت اور اس کا رنگ بالمشافہہ دیکھنے کے ساتھ ہوگا، جس طرح خواب میں اتفاق ہوتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [1] شاہ ولی اﷲ محدث دہلوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’واستفاض في الحدیث أن اللّٰه تعالیٰ یتجلیٰ بصور کثیرۃ لأھل الموقف، وأن النبي صلی اللّٰه علیہ وسلم یدخل علی ربہ وھو علی کرسیہ، وأن اللّٰه تعالیٰ یکلم ابن آدم شفاھا‘‘ (حجۃ اللّٰه البالغۃ:۱/۴۴)