کتاب: مجموعہ رسائل عقیدہ(جلد3) - صفحہ 69
شخص کے ہاتھ میں دھاگا بندھا ہوا دیکھا، جو بخار دور کرنے کے لیے باندھا گیا تھا تو انھوں نے وہ دھاگا پکڑ کر توڑ ڈالا اور فرمایا: ﴿وَ مَا یُؤْمِنُ اَکْثَرُھُمْ بِاللّٰہِ اِلَّا وَ ھُمْ مُّشْرِکُوْنَ﴾[یوسف: ۱۰۶] [اور ان میں سے اکثر اللہ پر ایمان نہیں رکھتے، مگر اس حال میں کہ وہ شریک بنانے والے ہوتے ہیں] [1] اللہ کی دی ہوئی نعمت کو دوسرے کی طرف منسوب کرنا بھی شرک ہے: یہ بات بھی ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ اللہ کی دی ہوئی نعمت کو کسی غیر کی طرف منسوب کرنا بھی شرک ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿ یَعْرِفُوْنَ نِعْمَتَ اللّٰہِ ثُمَّ یُنْکِرُوْنَھَا﴾[النحل: ۸۳] [وہ اللہ کی نعمت کو پہچانتے ہیں، پھر اس کا انکار کرتے ہیں] امام مجاہد رحمہ اللہ نے کہا ہے کہ جیسے یہ کہنا کہ یہ مال میرا ہے، میں نے اپنے باپ کی میراث میں حاصل کیا ہے۔ ’’منتقیٰ الأخبار‘‘ کی شرح ’’نیل الأوطار‘‘ میں امام شوکانی رحمہ اللہ نے کہا ہے کہ قبے اور مشاہد بھی دلائل کی رو سے قبروں کو بلند کرنے کی ممانعت کے حکم میں داخل ہیں اور قبروں کو مسجد ٹھہرانے کے مترادف ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کرنے والے پر لعنت فرمائی ہے۔ آج کے قبر پرستوں نے وہی کچھ کیا اور کہا ہے جو کچھ اہلِ جاہلیت بتوں کے ساتھ کیا کرتے اور ان کے متعلق کہا کرتے تھے۔ فإنا للّٰہ۔ اس بد ترین منکر اور قطعی کفر کے باوجود کوئی شخص ایسا نہیں ملتا جو اللہ کے لیے غضب ناک ہو اور دین حنیف کا حامی بنے، نہ کوئی عالم اور نہ کوئی متعلم، نہ کوئی امیر و وزیر اور نہ کوئی بادشاہ۔ علماے دین اور مسلمانوں کے بادشاہو! اسلام کے لیے کفر سے زیادہ سخت مصیبت کون سی ہے؟ اس دین کے لیے غیر اللہ کی عبادت سے زیادہ ضرر رساں بلاو آزمائش کون سی ہے؟ مسلمانوں کو وہ کون سی مصیبت پہنچے گی جو اس مصیبت کے برابر ہو؟ اگر اس واضح شرک کا انکار واجب نہیں تو آخر کس منکر کا انکار واجب ہو گا؟[2] [1] تفسیر ابن أبي حاتم (۷/۲۲۰۸) تفسیر ابن کثیر (۲/۵۱۲) فتح المجید (ص: ۱۱۴) [2] نیل الأوطار (۴/۱۳۱)