کتاب: مجموعہ رسائل عقیدہ(جلد3) - صفحہ 65
﴿ اِنَّ الشِّرْکَ لَظُلْمٌ عَظِیْمٌ﴾[لقمان: ۱۳] [بے شک شرک یقینا بہت بڑا ظلم ہے] [1] نیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شرک کا دروازہ بند کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کی تھی: (( اَللّٰھُمَّ لَا تَجْعَلْ قَبْرِيْ وَثَناً یُّعْبَدُ )) [2] [اے اللہ! میری قبر کو بت نہ بنانا کہ اس کی عبادت ہونے لگے] بت پرستی کا آغاز و ارتقا: دنیا میں بت پرستی کی ابتدا کہاں سے ہوئی؟ اس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے قوم نوح علیہ السلام کے متعلق یہ بیان کیا ہے کہ انھوں نے کہا: ﴿ وَقَالُوْا لاَ تَذَرُنَّ اٰلِھَتَکُمْ وَلاَ تَذَرُنَّ وَدًّا وَّلاَ سُوَاعًا وَّلاَ یَغُوْثَ وَیَعُوْقَ وَنَسْرًا﴾ [نوح: ۲۳] [اور انھوں نے کہا تم ہر گز اپنے معبودوں کو نہ چھوڑنا اور نہ کبھی ودّ کو چھوڑنا اور نہ سواع کو اور نہ یغوث اور یعوق اور نسر کو] سلف کے ایک گروہ کا کہنا ہے کہ ودّ، سواع، یغوث، یعوق اور نسر قومِ نوح علیہ السلام کے کچھ نیک لوگ تھے، جب وہ فوت ہو گئے تو قوم نے ان کی قبروں پر اعتکاف و مجاورت کی اور ان کی تصویریں بنا کر اپنی مجلسوں میں اس جگہ رکھیں جہاں وہ بزرگ اپنی زندگی میں بیٹھا کرتے تھے۔ اس طرح ان کے ہاں بت پرستی کا آغاز ہوا۔ یہ بت پرستی اور قبر پرستی نصاریٰ کے دین سے ہے، ورنہ صحابہ کرام اور تابعین عظام رضی اللہ عنہم نے کبھی کسی قبر کے پاس دعا کرنے کا قصد و ارادہ نہیں کیا، وہ قبر کسی نبی کی ہو یا کسی غیر نبی کی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر کے پاس دعا کرنے کے لیے کھڑا ہونا مکروہ اور بدعت ہے: ائمہ اسلام نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر کے پاس کھڑے ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے دعا کرنے کو مکروہ اور بدعت کہا ہے، کیونکہ صحابہ کرام اور تابعین عظام رضی اللہ عنہم نے یہ کام نہیں کیا ہے، بلکہ وہ لوگ [1] صحیح البخاري، رقم الحدیث (۳۲) صحیح مسلم، رقم الحدیث (۱۲۴) [2] موطأ الإمام مالک (۱/۱۷۲)