کتاب: مجموعہ رسائل عقیدہ(جلد3) - صفحہ 609
نے ان سب کو ختم کر دیا سوائے دو تین گمراہ فرقوں کے، جیسے روافض اور خوارج وغیرہ ہیں۔ اب معتزلہ وغیرہ کی مثل کوئی فرقہ بلادِ اسلام میں باقی نہ رہا اور فرقہ ناجیہ اہلِ سنت ہمیشہ اپنے اعدا و مخالفینِ مذہب پر غالب رہا، لیکن اس قرب زمان میں قربِ ساعت کے سبب اہلِ سنت کے فرقوں میں باہم خانہ جنگی شروع ہو گئی ہے جس کے سبب اکثر مسلمان متزلزل ہو گئے۔ انھیں حق کی باطل سے تمیز نہ رہی۔ ہر فرقے نے عوام کو اپنی طرف کھینچا، جس کی تقدیر میں جو خرابی لکھی تھی وہ اسے پیش آئی، اگرچہ اللہ تعالیٰ کا دین اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شرع واضح ہے اور غلو و جفا کے درمیان ہے۔ ان کے مقابل کچھ ایسے لوگ بھی پیدا ہوئے جو اہلِ بدع اور فرق ضالہ کے طریقے پر چلتے ہیں اور دینِ اسلام میں طرح طرح کے شکوک پیدا کرتے ہیں اور قرآن وحدیث کے الفاظ وعبارات کی تکذیب اور تحریف کرنا چاہتے ہیں، لیکن ابھی تک ان کو یہ بات حسبِ منشا میسر نہیں آئی۔ حدیثِ نبوی ہے: (( لَا تَزَالُ طَائِفَۃٌ مِنْ أُمَّتِيْ ظَاھِرِیْنَ عَلَی الْحَقِّ لَا یَخْذُلُھُمْ مَنْ خَالَفَھُمْ )) [1] [میری امت کی ایک جماعت حق پر غالب رہے گی ان کی مخالفت کرنے والا ان کا کچھ نہ بگاڑ سکے گا] ان شاء اللہ آئندہ بھی انھیں یہ بات میسر نہ ہو گی، گو یہ کتنا ہی سر مارا کریں۔ لیکن اس حیص بیص میں عوام وجہال اور اکثر خاص کالانعام کے حال کے ساتھ اتنی خرابی ضرور لاحق ہو گئی ہے کہ دین وآخرت سے غافل یا اس کے جاحد ہو کر بندۂ درہم ودینار اور طالبِ مال وجاہ بن گئے ہیں اور ایسے اعمال کرنے لگے ہیں جیسے یوم الحساب پر یقین نہ رکھنے والے کرتے ہیں۔ وکان ذلک في الکتاب مسطورا۔ ایسے وقت میں عالم کتمانِ علم کے سبب ملعون ٹھہرتا ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اہلِ علم سے اس بات کا عہد وپیمان لیا ہے کہ وہ اس کے بندوں کے سامنے آیاتِ کتاب اور احادیثِ مستطاب کی تبلیغ و تبیین کر دیں۔ وما توفیقي إلا باللّٰه علیہ توکلت وإلیہ أنیب وآخر دعوانا أن الحمد للّٰه رب العالمین۔ ٭٭٭ [1] مسند أحمد (۱/۴۳۵) سنن الدارمي (۱/ ۷۸) صحیح ابن حبان (۱/۱۸۰) سنن النسائي الکبری (۶/۳۴۳) مسند البزار (۵/۲۵۱)