کتاب: مجموعہ رسائل عقیدہ(جلد3) - صفحہ 600
(( مَا سَتَرَ اللّٰہُ عَلٰی عَبْدٍ ذَنْباً فِيْ الدُّنْیَا إِلَّا سَتَرَہٗ عَلَیْہِ فِيْ الْآخِرَۃِ )) [1] [اللہ تعالیٰ نے جس بندے کے گناہ پر دنیا میں پردہ ڈالا آخرت میں بھی اس پر پردہ ڈال دے گا] یا یہ گمان کرے کہ جو لوگ میرے حال پر مطلع ہیں وہ میری اقتدا میں رغبت کریں گے اور اس سے میرا اجر وثواب بڑھے گا۔ ایک اجر اس عمل کے آخر کار ظہور کے سبب سے اور ایک اجر سر کا اَولاً اس کا قصد کرنے کے سبب سے ملے گا۔ اس لیے کہ طاعت میں جس کی اقتدا کی جاتی ہے اسے اقتدا کرنے والوں کے برابر اجر وثواب ملتا ہے بغیر اس کے کہ ان کے اجروں میں کچھ کمی ہو۔ یہ توقع اس لائق ہے کہ اس سے سرور وخوشی پیدا ہو۔ فائدے کے آثار کا ظاہر ہونا لذیذ ہے جس پر خوش ہونا ہی چاہیے۔ یا وہ اس بات پر خوش ہو کہ اللہ تعالیٰ نے اسے ایسی توفیق دی جس کے سبب سے لوگ اس کی مدح کرتے ہیں اور اس توفیق کے سبب اس سے محبت کرتے ہیں۔ اللہ نے ان لوگوں کو اس جماعت کی طرح نہ بنایا جو گناہ گار ہو کر اطاعت گزاروں پر استہزا کرتے اور انھیں ستاتے ہیں۔ اس فرحت کی علامت یہ ہے کہ غیر کی مدح پر بھی ویسا ہی خوش ہو جیسے اپنی مدح پر خوش ہوتا ہے۔ اظہار اور اخفاے اعمال میں بہتر کیا ہے؟: سرورِ مذموم و مکروہ وہ ہے کہ اس بات پر خوش ہو کہ اس کی قدر ومنزلت لوگوں کے دلوں میں قائم ہے، وہ اس کی تعظیم و تکریم کرتے ہیں اور اس کی قضاے حاجات کے لیے تیار ہیں۔ اس تقریر سے یہ بات معلوم ہوئی کہ عمل کو چھپانے اور مخفی رکھنے کا فائدہ یہ ہے کہ اس سے اخلاص ملتا ہے اور ریاکاری سے نجات حاصل ہوتی ہے۔ اور اظہارِ عمل میں بھلائی کی اقتدا اور ترغیب کا فائدہ حاصل ہوتا ہے، لیکن اس کے ساتھ ریا کی آفت لگی ہوئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے دونوں قسموں کی ثنا کی ہے، فرمان ہوتا ہے: ﴿ اِنْ تُبْدُوا الصَّدَقٰتِ فَنِعِمَّا ھِیَ وَ اِنْ تُخْفُوْھَا وَ تُؤْتُوْھَا الْفُقَرَآئَ فَھُوَ خَیْرٌ لَّکُمْ﴾[البقرۃ: ۲۷۱] [اگر تم صدقے ظاہر کرو تو یہ اچھی بات ہے اور اگر انھیں چھپاؤ اور انھیں محتاجوں کو دے دو تو یہ تمھارے لیے زیادہ اچھا ہے] [1] مسند أحمد (۶/۱۶۰)