کتاب: مجموعہ رسائل عقیدہ(جلد3) - صفحہ 598
اس ڈر سے ترک کرے کہ کہیں لوگ یہ گمان نہ کریں کہ اس شخص کو نوافل کے ساتھ کچھ اعتنا اور دلچسپی نہیں ہے۔ یہ ریا کاری کے درجات کے اصول اور ریاکاروں کی قسموں کے مراتب ہیں۔ امام غزالی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ سب لوگ اللہ تعالیٰ کے مقت وغضب کے زیربار ہیں اور یہ ہلاکتوں میں سے سخت ہلاکت ہے ریاکاری کے کچھ مزید درجات: 1۔حدیث میں آیا ہے کہ ریاکاری چیونٹی کی چال سے بھی زیادہ مخفی ہے،[1] چنانچہ یہ وہ ہی ریا ہے جس میں فحول علما سے لغزش ہو جاتی ہے جاہل عبادت گزاروں کا، جو آفاتِ نفوس اور غوائلِ قلوب سے نا واقف ہیں، کیا ذکر ہے۔ اس ریا کاری کا بیان کچھ یوں ہے کہ ریا دو طرح پر ہے: ایک ریا جلی، یہ ریا عمل پر حامل ہوتی ہے، دوسری ریا خفی، یہ عمل پر باعث تو نہیں ہوتی لیکن مشقت کو سبک کر دیتی ہے۔ جس طرح کسی شخص کو ہر رات نمازِ تہجد پڑھنے کی عادت ہو اور یہ نماز اس پر گراں ہے، لیکن جب کوئی مہمان اس کے گھر آتا ہے یا کوئی شخص اس پر مطلع ہوتا ہے تو اسے ایک طرح کا نشاط حاصل ہوتا ہے اور تہجد پڑھنا آسان ہو جاتا ہے، اس کے باوجود وہ یہ عمل اللہ ہی کے لیے کرتا ہے۔ اگر اسے ثواب کی امید نہ ہوتی تو وہ تہجد کیوں پڑھتا۔ اس کی نشانی یہ ہے کہ وہ تہجد پڑھے گو اس پر کوئی مطلع نہ ہو۔ 2۔اس سے اخفی وہ ریا ہے جو تسہیل وتخفیف پر حامل بھی نہ ہو، اس کے باوجود اس کے پاس ریا ہے اور اس کے دل میں یوں چھپی ہوئی ہے جیسے آگ پتھر کے اندر۔ مگر علامات کے بغیر اس پر اطلاع ممکن نہیں ہے۔ اس کی علامات سے واضح علامت یہ ہے کہ لوگوں کا اس کی عبادت و طاعت پر مطلع ہونا اسے خوش کرتا ہے۔ 3۔اس سے خفی تر وہ ریا ہے کہ ریاکار نہ اطلاع چاہے نہ مسرت لائے، لیکن وہ اس بات کو پسند کرے کہ لوگ اسے اسلام کرنے میں پہل کریں اور وہ یہ چاہے کہ لوگ اس کی تعظیم کریں، مزید ثنا کے ساتھ پیش آئیں، اس کی حاجت بر آری کی طرف مبادرت کریں، معاملہ میں اس کے ساتھ نرمی بجا لائیں، جب وہ ان کے پاس جائے تو وہ اس کے لیے توسیعِ مکان کریں، [1] مسند أحمد (۴/ ۴۰۳)