کتاب: مجموعہ رسائل عقیدہ(جلد3) - صفحہ 590
وخلفاً اجماع ہو چکا ہے، لہٰذا ریاکاری کی مذمت پر ائمہ رحمہم اللہ کے کلمات باہم موافق اور متواتر ہیں۔ امت کا ریاکاری کے گناہ کی تحریم وتعظیم پر اطباق واتفاق ہے۔ ایک حکایت: عمر رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ گردن جھکائے بیٹھا ہے۔ انھوں نے کہا: اے گردن والے! گردن اونچی کر، خشوع گردنوں (کے جھکائے) میں نہیں ہے وہ تو دلوں میں ہوتا ہے۔ حکایت: ابو امامہ رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کو مسجد کے اندر سجدے کی حالت میں روتا ہوا دیکھ کر کہا: ’’أنت أنت لو کان ہذا في بیتک‘‘[1] [تم تم ہی ہو، کاش! تمہارا یہ رونا تیرے گھر کے اندر ہوتا] امام قتادہ رحمہ اللہ نے کہا ہے: جب بندہ ریاکاری کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ’’عبدي یستھزیٔ بي‘‘[2] [میرا بندہ میرے ساتھ استہزا کرتا ہے] امام فضیل رحمہ اللہ نے کہا ہے کہ اگر کوئی شخص کسی ریا کار کو دیکھنا چاہے تو مجھے دیکھے۔ نیز انھوں نے یہ بھی کہا ہے: ’’ترک العمل لأجل الناس ریائ، والعمل لأجل الناس شرک، والإخلاص أن یعافیک اللّٰه منھما‘‘[3] [لوگوں کے لیے کسی عمل سے کنارہ کش ہونا ریاکاری ہے، لوگوں کے لیے کسی کام پر عمل پیرا ہونا شرک ہے اور اخلاص یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں ان دونوں سے محفوظ رکھے] اللہ رب العزت نے فرمایا: ﴿وَقَدِمْنَآ اِِلٰی مَا عَمِلُوْا مِنْ عَمَلٍ فَجَعَلْنٰہُ ھَبَآئً مَّنْثُورًا﴾[الفرقان: ۲۳] [اور ہم اس کی طرف آئیں گے جو انھوں نے کوئی بھی عمل کیا ہو گا تو اسے بکھرا ہوا غبار بنا دیں گے] [1] الزھد لابن المبارک (۱۵۵) [2] إحیاء علوم الدین للغزالي (۵/۴۲) [3] سیر أعلام النبلاء (۸/۴۲۷)