کتاب: مجموعہ رسائل عقیدہ(جلد3) - صفحہ 576
جائے] عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’وھو قمرہم أیضاً أي کما یکون لنا بطلوعہ سعد کذلک یکون لہم لأن طلوعہ علی الجیشین واحد‘‘ [اور وہ چاند، ان کا بھی چاند ہے۔ یعنی جیسے اس کا طلوع ہونا ہمارے لیے باعث سعادت ہو گا، ایسے ہی ان کے لیے بھی ہو گا، کیونکہ اس کا دونوں لشکروں پر طلوع ہونا ایک جیسا ہے] اسی طرح مریض کے پاس حاضر ہو کر یہ کہنا: ’’ اللّٰہ یحمل عنک‘‘ [اللہ تعالیٰ یہ مرض تجھ سے اٹھالے] اس لیے کہ یہ موہم لفظ ہے۔ ادب کا تقاضا یہ ہے کہ یوں کہے: ’’اللّٰه یدفع عنک أو یصرف‘‘ [اللہ تعالیٰ تجھ سے دور کرے یا پھیر دے] اسی طرح یہ کہا: ’’فلان یطلع علی الغیب ولہ کشف أو اطلاع علی الغیب‘‘ [فلاں شخص غیب پر مطلع ہے اور اسے غیب پر کشف یا اطلاع حاصل ہے] کیونکہ یہ باطل عقیدے کا وہم پیدا کرتا ہے۔ ادب کا تقاضا ہے کہ یوں کہے: ’’فلان لہ فراسۃ صادقۃ أو کشف أو اطلاع فقط‘‘ [فلاں شخص میں اس کی سچی فراست ہے یا صرف کشف یا اطلاع ہے] تا کہ علم وقطع میں مقامِ رسل سے مزاحمت نہ ہو کیوں کہ اولیا کے پاس تو، ان میں سے بعض کے برخلاف، صرف ظنِ صادق ہوتا ہے، اور یہی وہ ظن ہے جس کا نام وہ الہام، فتح اور کشف رکھتے ہیں۔ اسی طرح بیع اور اقالہ کے سوال کے وقت یہ قول: ’’باعک اللّٰه أو أقالک اللّٰہ ‘‘ [اللہ تعالیٰ تجھ سے بیع کرے یا اللہ تعالیٰ تجھ سے اقالہ کرے] کیونکہ یہ قول اہلِ اتحاد کے مذہب کا وہم ڈالتا ہے جو کفر ہے: اسی طرح شعائرِ الٰہی میں سے کسی چیز کی تصغیر جیسے مسیجد اور لویح وغیرہ ہے، کیونکہ بعض علما کے نزدیک یہ کفر ہے۔ اسی طرح کتب مولفہ کا قرآن اور وحی کے مشابہ نام رکھنا شرعاً جائز نہیں ہے، جیسے کتاب الاسراء والمعاریج یا جیسے مفاتح الغیب یا آیات بینات۔ کیونکہ اس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اسراء وعروج میں مزاحمت کا ایہام ہے یا علم غیب میں حق تعالیٰ کے ساتھ مشارکت کا ایہام ہے۔ انتھیٰ کلام الشعرانی رحمہ اللّٰہ ۔[1] امام ابن حجر مکی رحمہ اللہ کی کتاب ’’الزواجر‘‘ سے انواعِ شرک و کفر کا بیان: ابن حجر مکی رحمہ اللہ نے کتاب ’’الزواجر‘‘ میں لکھا ہے کہ کفر وشرک کی انواع میں سے ایک یہ بات [1] المنن الکبری (ص: ۳۹۱)