کتاب: مجموعہ رسائل عقیدہ(جلد3) - صفحہ 574
کے ساتھ خاص ہے، اس کے سوا کسی غیر پر اس کا اطلاق نہیں ہونا چاہیے۔ اسی طرح وہ الفاظ جو حق تعالیٰ کے سوا کسی اور کے لائق نہیں ہیں، ان سے دوسروں کے حق میں اجتناب کا وجوب بطریق اولیٰ ہے۔ جیسے کتب مراسلات میں بعض لوگوں کا اعظمی، اقربی اور اعلوی وغیرہ الفاظ استعمال کرنا، کیونکہ لغوی استعمال میں ان الفاظ کے معانی حق تعالیٰ کے ساتھ خاص ہیں۔ اگر کوئی یہ بات کہے کہ میری مراد اس سے مخلوق ہے تو ہم کہیں گے کہ یہ بات گزر چکی ہے کہ تفصیل کے محل میں اطلاق کرنا غلط ہوتا ہے اور تیرا یہ کلام حق تعالیٰ اور مخلوق دونوں کے درمیان اطلاق وعموم کا وہم ڈالتا ہے جو ممتنع ہے۔ اسی طرح یہ قول: ’’ما فی الوجود إلا اللّٰہ ‘‘ [وجود میں صرف اللہ ہے] میں کہتا ہوں: اسی طرح یہ قول: ’’لا موجود إلا اللّٰہ‘‘ [صرف اللہ تعالیٰ ہی موجو دہے] کیونکہ وحدتِ وجود کے قائلین اسے کلمہ طیبہ ’’لا إلہ إلا اللّٰه‘‘ کا ترجمہ قرار دیتے ہیں اور شارع کے خلاف مقصود مراد لیتے ہیں۔ اسی طرح یہ قول: ’’إن اللّٰہ في قلوب العارفین‘‘ [بلا شبہ اللہ تعالیٰ عارفین کے دلوں میں ہے] میں کہتا ہوں: اسی طرح یہ قول: ’’لیس فی جبتي إلا اللّٰہ‘‘ [میرے جبے میں صرف اللہ تعالیٰ ہے] یا: ’’سبحانی ما أعظم شأني‘‘ [میں پاک ہوں میں کتنا عظیم الشان ہوں] کیونکہ یہ کلمات شطحاتِ فقرا ہیں، لہٰذا ان سے قطع نظر کرنا اور ان کے تلفظ وتکلم کے درپے نہ ہونا ضروری ہے گویہ کسی وجہ سے تاویل کی گنجایش رکھتے ہوں۔ اسی طرح یہ قول: ’’ما یسمع اللّٰہ من ساکت‘‘ [اللہ تعالیٰ ساکت سے نہیں سنتا ہے] اس سے مراد یہ لیا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ عالم اسرار نہیں ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان: ﴿ اَمْ یَحْسَبُوْنَ اَنَّا لاَ نَسْمَعُ سِرَّھُمْ وَنَجْوٰھُمْ بَلٰی﴾[الزخرف: ۸۰] [یا وہ گمان کرتے ہیں کہ بے شک ہم ان کا راز اور ان کی سرگوشی نہیں سنتے، کیوں نہیں] کے مخالف ومتضاد ہونے کے سبب اللہ تعالیٰ پر مذکورہ قول کا اطلاق جائز نہیں ہے، حالانکہ براہینِ عقول اور صحیح نقول اس بات پر قائم ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہر موجود کا سامع ہے۔ اسی طرح یہ قول: ’’ھذا زمان سوئ‘‘ [یہ برا زمانہ ہے] اور زمانے سے مراد ’’دہر‘‘ ہو، حالانکہ قدسی حدیث میں آیا ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: (( أَنَا الدَّھْرُ )) [1] [میں ہی زمانہ ہوں] پس اللہ تعالیٰ نے جس لفظ کا اطلاق اپنے نفسِ مقدس پر کیا ہے، اس کے ساتھ کسی مخلوق کا وصف کرنا جائز نہیں ہے۔ [1] صحیح البخاري، رقم الحدیث (۷۰۵۳) صحیح مسلم، رقم الحدیث (۲۲۴۶)