کتاب: مجموعہ رسائل عقیدہ(جلد3) - صفحہ 56
[جو کچھ محمد صلی اللہ علیہ وسلم چاہیں] یا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا یہ کہنا: ’’ہمارے لیے بھی ایک ذاتِ انواط مقرر کر دو۔‘‘ مگر جو نہی ان پر حق ظاہر ہوا تو وہ حق کے متبع بن گئے اور انھوں نے کسی قسم کا جھگڑا اور کٹ حجتی نہیں کی، جس طرح اہلِ جاہلیت اپنے آبا کے مذہب اور اجداد کی رسوم و عادات پر کٹ حجتیوں اور حمیت و تعصب کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ لیکن جو شخص مسلمان ہونے کا دعوی کرتا ہے، مگر اس کے باوجود بڑے بڑے شرکیہ اعمال کرتا ہے اور جب اس کو اللہ تعالیٰ کی آیات سنائی جائیں تو تکبر کا مظاہرہ کرتے ہوئے انکار کر دیتا ہے تو وہ مسلمان نہیں ہے۔ مگر جو شخص جہالت کے سبب یہ کام کرتا رہا اور کوئی ناصح اور مرشد اس کو میسر نہ آیا اور اس نے خود علم حاصل کیا، بلکہ ایک ہی جگہ جما رہا اور خواہشِ نفس کی پیروی کرتا رہا تو ہمیں نہیں معلوم کہ اس کا کیا حال ہو گا۔ انتھیٰ۔ شرک اصغر قابلِ معافی ہے: مذکورہ بالا عبارت سے ثابت ہوا کہ شرک اکبر کے ارتکاب میں جہل عذر نہیں بنتا۔ ہاں جو کفر ایسا ہے کہ وہ ایمان کے منافی اور اس کے متضاد نہیں ہے اور ایک شخص سے جہالت اور ناواقفیت کی بنا پر اس کا ارتکاب ہو گیا ہے تو اس کے لیے معافی اور درگزر کی امید کی جا سکتی ہے۔ اس کی مثال یہ ہے کہ عورتوں کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (( یَکْفُرْنَ الْعَشِیْرَ )) [1] [وہ خاوند کی نافرمانی کرتی ہیں] مگر اس جگہ ’’کفر‘‘ ناشکری اور ناسپاسی کے معنی میں ہے۔ یہ وہ کفر نہیں ہے جس سے ایمان بالکل جاتا رہے۔ اسی طرح زنا اور شراب نوشی کے متعلق فرمایا ہے کہ جب کوئی شخص زنا کرتا ہے اور شراب پیتا ہے تو زانی اور شرابی وغیرہ سے ایمان جدا ہو جاتا ہے،[2] کیوں کہ یہ اعمال کفر کی وہ قسمیں ہیں جو ایمان کی ضد نہیں ہیں اور ’’کفر دُونَ کفرٍ‘‘ (کفر اصغر) کا لفظ اعمال کی انہی اقسام پر بولا جاتا ہے۔ بہت سے ایسے کبیرہ گناہ ہیں جن پر کفر کا اطلاق اور لعنت کا ورود ہوا ہے، مگر ان کی سزا کے متعلق دخولِ نار تو فرمایا ہے، مگر خلودِ نار کا حکم نہیں لگایا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ ان کبیرہ گناہوں [1] صحیح البخاري، رقم الحدیث (۲۹) صحیح مسلم، رقم الحدیث (۸۸۴) [2] صحیح البخاري، رقم الحدیث (۲۳۴۳) صحیح مسلم، رقم الحدیث (۵۷)