کتاب: مجموعہ رسائل عقیدہ(جلد3) - صفحہ 557
﴿اِنَّ اللّٰہَ لَا یَغْفِرُ اَنْ یُّشْرَکَ بِہٖ وَ یَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِکَ لِمَنْ یَّشَآئُ﴾[النسائ: ۴۸] [بے شک اللہ اس بات کو نہیں بخشے گا کہ اس کا شریک بنایا جائے اور وہ بخش دے گا جو اس کے علاوہ ہے، جسے چاہے گا] نیز فرمایا: ﴿اِنَّ الشِّرْکَ لَظُلْمٌ عَظِیْمٌ﴾[لقمان: ۱۳] [بے شک شرک یقینا بہت بڑا ظلم ہے] مزید فرمایا: ﴿اِنَّہٗ مَنْ یُّشْرِکْ بِاللّٰہِ فَقَدْ حَرَّمَ اللّٰہُ عَلَیْہِ الْجَنَّۃَ وَ مَاْوٰہُ النَّارُ وَ مَا لِلظّٰلِمِیْنَ مِنْ اَنْصَارٍ﴾[المائدۃ: ۷۲] [بے شک حقیقت یہ ہے کہ جو بھی اللہ کے ساتھ شریک بنائے، سو یقینا اس پر اللہ نے جنت حرام کر دی اور اس کا ٹھکانا آگ ہے اور ظالموں کے لیے کوئی مدد کرنے والے نہیں] صحیح میں مرفوعاً مروی ہے: (( اَلَا أُنَبِّئُکُمْ بِأَکْبَرِ الْکَبَائِرِ؟ اَلْإشْرَاکُ بِاللّٰہِ ۔۔۔ إِلٰی قَوْلِہٖ: فَمَا زَالَ یُکَرِّرُھَا حَتّٰی قُلْنَا لَیْتَۃُ سَکَتَ )) [1] [کیا میں تمہیں کبیرہ گناہوں میں سب سے بڑا گناہ نہ بتاؤں (سنو!) وہ گناہ اللہ کے ساتھ شرک کرنا ہے، ۔۔۔ آپ جھوٹی بات کو بھی اس کبیرہ گناہوں کی فہرست میں ذکر کر کے بار بار اس کو دہرا رہے تھے حتی کہ ہم نے کہا: کاش! آپ صلی اللہ علیہ وسلم اب خاموش ہو جائیں] دوسری حدیث میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنے کو سات ہلاک کر دینے والے اعمال میں شمار کیا گیا ہے۔[2] امام احمد، بخاری، ترمذی، نسائی، ابو داؤد، طبرانی، ابن حبان، حاکم، بیہقی رحمہم اللہ وغیرہ کی کتب میں شرک کا اکبر کبائر ہونا بہت سی احادیث میں آیا ہے۔ بعض احادیث میں شرک کو اعظم کبائر بھی فرمایا ہے۔ اسی طرح اس کی جزا بھی اعظم عذاب اور اشد عقاب ہے۔ شرک کی بہت سی انواع واقسام ہیں، اور اکثر لوگ اس شرک میں گرفتار ہیں۔ عام لوگوں کی زبان پر شرک وکفر کے الفاظ اکثر جاری رہتے ہیں اور وہ اس کو نہیں جانتے، حالانکہ اس کی شناخت [1] صحیح البخاري، رقم الحدیث (۲۵۱۱) صحیح مسلم، رقم الحدیث (۸۷) [2] صحیح البخاري، رقم الحدیث (۶۴۶۵) صحیح مسلم، رقم الحدیث (۸۹)