کتاب: مجموعہ رسائل عقیدہ(جلد3) - صفحہ 549
﴿وَنَحْنُ اَقْرَبُ اِِلَیْہِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِیْدِ﴾[قٓ: ۱۶] [اور ہم اس کی رگِ جاں سے بھی زیادہ اس کے قریب ہیں] مشرکین کے خلاف جہاد کی فرضیت: اہلِ حدیث ہر سنی امام کے، خواہ وہ نیک ہو یا بد، پیچھے عید، جمعہ اور جماعات کو جائز رکھتے ہیں اور وہ سفر وحضر میں موزوں پر مسح کرنے کو جائز بتاتے ہیں۔ وہ مشرکین کے خلاف جہاد کرنے کو فرض جانتے ہیں جس طرح کہ سنتِ صحیحہ میں آیا ہے۔ وہ مشرکین خواہ کوئی ہوں اور کہیں ہوں۔ ہر زمانے میں فتنے سے بچنا ضروری ہے۔ وہ ائمہ مسلمین اور عوام مومنین کے لیے دعا، صلاح، سداد اور نصیحت کرتے ہیں۔ فتنے میں باہم لڑائی کرنے سے روکتے ہیں اور کہتے ہیں کہ مسلمانوں کے فوت شدگان کو موت کے بعد دعا اور صدقہ پہنچتا ہے۔ جادو گر کافر ہے۔ اہلِ قبلہ کی نمازِ جنازہ درست ہے، جب تک وہ حدِ کفر کو نہ پہنچے ہوں۔ وہ رزق کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے جانتے ہیں خواہ حلال ہو یا حرام۔ وہ کہتے ہیں کہ شیطان انسان کے دل میں وسوسہ اور شک ڈالتا ہے اور اسے خبطی بنا دیتا ہے۔ یہ بات جائز ہے کہ اللہ عزوجل بعض صالحین کو بعض آیات کے ساتھ خاص کرے۔ اخلاق حسنہ اور اخلاق رذیلہ: بچوں کا معاملہ اللہ تعالیٰ کی طرف ہے، چاہے انھیں بخشے، چاہے عذاب کرے۔ یہ اس کے علم وارادے پر موقوف ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اطفال کا حال دریافت کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (( اَللّٰہُ أَعْلَمُ بِمَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ )) [1] [اللہ ہی جانتا ہے کہ وہ کیا عمل کریں گے] اللہ تعالیٰ کو اجمالاً اور تفصیلاً بندوں کے اعمال کا علم ہے۔ اس نے پہلے ہی سے یہ لکھ رکھا ہے کہ بندہ یہ کام کرے گا۔ غرض کہ ہر امر میں اللہ تعالیٰ کا اختیار ہے۔ اللہ جل وعلا کے حکم پر صبرکرنا، اس کے امر ونہی کو بجا لانا، عمل میں اخلاص کرنا، مسلمانوں کا خیر خواہ رہنا، عبادت میں اتباع کرنا، جماعت مسلمین کا ناصح ہونا، ہر مسلمان کو نصیحت کرنا اور کبائر ذنوب سے بچنا واجب ہے، جیسے زنا، خمر، سرقہ، جھوٹی بات اور گواہی، معصیت، فخر، کبر، خود پسندی نسب پر فخر اور کسی کے حسب میں طعن کرنا ہیں۔ [1] صحیح البخاري، رقم الحدیث (۶۲۲۶)