کتاب: مجموعہ رسائل عقیدہ(جلد3) - صفحہ 547
اطاعت کرے، جب تک کہ وہ نماز پر قائم ہو۔ فرمانِ مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ہے: (( لَا طَاعَۃَ لِمَخْلُوْقٍ فِيْ مَعْصِیَۃِ الْخَالِقِ )) [1] [خالق کی معصیت میں مخلوق کی اطاعت کرنا جائز نہیں ہے] جب سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوئے ہیں تب سے ائمہ ابرار وفجار کے ساتھ مل کر جہاد کرنا جاری ہے اور یہ اس وقت تک جاری رہے گا جب تک اس امتِ اسلام کا آخری حصہ دجال سے قتال کرے، کسی ظالم کا ظلم یا کسی عادل کا عدل جہاد کو باطل نہیں کر سکتا ہے۔ جمعہ، عیدین اور حج ائمہ کے ہمراہ ادا کرنا چاہیے، اگرچہ وہ ملوکِ اسلام ابرار واتقیا اور عدول واخیار نہ ہوں۔ وہ صدقات، خراج، اعشار اور غنائم کو سلاطین کے حوالے کرے، خواہ وہ ان میں عدل کریں یا ظلم۔ جسے اللہ تعالیٰ نے لوگوں کے امر کا والی بنایا ہے، یہ اس کا مطیع رہے، اس کی اطاعت سے ہاتھ کھینچے اور نہ تلوار لے کر اس کے خلاف خروج کرے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کوئی راستہ پیدا کر دے۔ ائمہ کی سمع وطاعت واجب ہے۔ ان کی بیعت نہ توڑے۔ جو کوئی اس کی خلاف ورزی کرے گا، وہ مبتدع، اہلِ سنت کا مخالف اور مفارق جماعت ہے۔ امام کے حق میں ہر گز مانع نہ ہو۔ خلیفہ کے خلاف خروج کرنا منع ہے: فتنے کے وقت اپنے آپ کو روک کر رکھنا سنت ماضیہ ہے جس کا لزوم واجب ہے اور اگر اس میں مبتلا ہو جائے تو جان کو مقدم کرے نہ کہ دین وایمان کو۔ وہ فتنے پر ہاتھ وزبان سے مددگار نہ بنے، بلکہ ہاتھ، زبان اور اپنی خواہش کو روکے۔ جو شخص خلافت کا والی بنا، لوگوں نے اس پر اجتماع کیا، اس سے راضی ہوئے یا اس نے لوگوں پر تلوار سے غلبہ پایا تھا، یہاں تک کہ خلیفہ یا امیر المومنین یا امام یا بادشاہ اسلام ٹھہر گیا تو اس کی اطاعت واجب اور اس کی مخالفت حرام ہے، مگر اللہ ورسول صلی اللہ علیہ وسلم کی معصیت میں اس کی طاعت روا نہیں۔ اس پر خروج کرنا اور مسلمانوں کے درمیان پھوٹ ڈالنا ممنوع ہے۔ سلطان جب معصیت کا حکم دے تو اس کی اطاعت نہ کرے، مگر اس پر خروج بھی نہ کرے۔ ایمان میں استثنا: ایمان میں استثنا [’’أنا مؤمن إن شاء اللّٰہ ‘‘ کہنا] جائز ہے۔ چنانچہ سلف اسی طریقے پر [1] المعجم الکبیر للطبراني (۱۸/۱۷۰) نیز دیکھیں: صحیح البخاري (۶۸۳۰) صحیح مسلم (۱۸۴۰)