کتاب: مجموعہ رسائل عقیدہ(جلد3) - صفحہ 538
(( وَ الَّذِيْ نَفْسِيْ بِیَدِہٖ لَا یُؤْمِنُوْنَ حَتّٰی یُحِبُّوْکُمْ لِلّٰہِ وَلِقَرَابَتِيْ )) [1] [قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! وہ لوگ تب تک مومن نہیں ہو سکتے جب تک اللہ کے لیے اور میری قرابت داری کے ناطے تم (اہلِ بیت) سے محبت نہ کریں] اسی طرح اہلِ حدیث اس بات پر ایمان لاتے ہیں کہ ازواجِ مطہرات نص قرآن کے ساتھ امہات المومنین ہیں اور وہ آخرت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں ہوں گی، خصوصاً خدیجہ رضی اللہ عنہا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اولاد کی ماں ہیں اور بیویوں میں سے سب سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائی ہیں۔ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا، جن کی برائت اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرمائی ہے، ان پر تہمت لگانے والا اللہ کے ساتھ کفر اور اس کی کتاب کی تکذیب کرنے والا ہے۔ روافض، جو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے بغض رکھنے والے اور صحابہ کرام و امہات المومنین کو گالیاں دینے والے ہیں اور نواصب وخوارج جو اہلِ بیت رسالت کو ایذا پہنچانے والے ہیں، اہلِ حدیث ان سے بے زار ہیں اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے درمیان جو مشاجرات، خصومات، منازعات، مخالفات اور مکالمات ہوئے ہیں وہ ان میں خوض وبحث نہیں کرتے، بلکہ وہ اس کے ذکر سے امساک کرتے ہیں، نیز ان آثار مرویہ میں کثرت سے زیادت ونقص اور تغییر وتحریف واقع ہو چکی ہے۔ درست بات تو یہ ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ان معاملات میں معذور تھے یا مجتہد مصیب یا مخطی۔ اس کے ساتھ ساتھ اہلِ حدیث کا عقیدہ یہ ہے کہ ہر صحابی کبائر و صغائر سے معصوم نہ تھا، بلکہ ان پر ذنوب کا جریان جائز ہے۔ ان کے لیے سبقتِ اسلام اور متعدد فضائل ہیں جو ان کے گناہوں کی بخشش کے موجب ہیں، یہاں تک کہ ان کے لیے جو گناہ بخش دیے جائیں گے وہ ان کے ما بعد کے لیے مغفور نہ ہوں گے۔ ان کے گناہوں کو مٹانے والی حسنات بھی اتنی ہیں کہ وہ مابعد کے لیے نہیں ہیں۔ وہ سب عدول ہیں۔ ان کی تعدیل خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی ہے جبکہ دوسروں کی تعدیل امت نے کی ہے، بنا بریں ان کا کیا مقابلہ ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں خیر قرون فرمایا ہے اور ان کے ایک مد صدقے کو ہمارے احد پہاڑ کے برابر سونا خرچ کرنے سے افضل ٹھہرایا [1] مسند أحمد (۱۷۷۳) اس کی سند میں ’’یزید بن ابی زیاد‘‘ ضعیف ہے۔ یہ روایت ایک اور سند سے سنن ابن ماجہ، رقم الحدیث (۱۴۰) میں بھی مروی ہے، لیکن اس کی سند منقطع ہے۔