کتاب: مجموعہ رسائل عقیدہ(جلد3) - صفحہ 537
[اور (ان کے لیے) جو ان کے بعد آئے، وہ کہتے ہیں اے ہمارے رب! ہمیں اور ہمارے ان بھائیوں کو بخش دے جنھوں نے ایمان لانے میں ہم سے پہل کی اور ہمارے دلوں میں ان لوگوں کے لیے کوئی کینہ نہ رکھ جو ایمان لائے، اے ہمارے رب! یقینا تو بے حد شفقت کرنے والا، نہایت رحم والا ہے] حدیث میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو سب وشتم کرنے سے منع کیا گیا ہے[1] اور تمام امت پر ان کی فضیلت کو بیان کیا گیا ہے۔ اہلِ دین کا ان کے فضائل ومزایا پر اجماع ہے۔ صلح حدیبیہ میں شرکت کرنے والے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بعد والے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے افضل ہیں، مہاجرین انصار پر مقدم ہیں۔ اہلِ بدر، حدیبیہ میں درخت کے نیچے بیعت کرنے والے، عشرہ مبشرہ، ثابت بن قیس، اہلِ بیت اور ازواجِ مطہرات بنقل تواتر امت کے افضل افراد اور جنت کی بشارت پانے والے ہیں۔ خلفاے اربعہ کے فضائل کی ترتیب اللہ کی طرف سے مقرر کردہ خلافت کی ترتیب کے مطابق ہے۔ خلافت کا زمانہ تیس برس تھا۔ پھر سلطنت آگئی۔ جس طرح ولایت کے سارے یا اکثر سلسلے علی مرتضی رضی اللہ عنہم کی طرف منتہی ہوتے ہیں، اسی طرح اشاعتِ دین، شریعت کے سارے طرائق و ذرائع خلفاے ثلاثہ کی طرف منتہی ہوتے ہیں، جس میں اس بات کی دلیل ہے کہ شریعت طریقت پر مقدم ہے اور علم کو عبادت پر فضیلت کاملہ حاصل ہے اور علما کا مرتبہ اولیاء اللہ سے زیادہ ہے۔ ان علما سے مراد علماے آخرت ہیں جو صاحبِ عمل تھے نہ کہ دنیا طلب علماے سو، بلکہ امام شافعی رحمہ اللہ نے کہا ہے کہ اگر علما باللہ اولیاء اللہ نہیں ہیں، تو پھر کوئی اللہ کا ولی نہیں ہے۔ اہلِ بیت سے محبت: اہلِ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اہلِ بیت سے محبت رکھتے ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان کے حق میں کی گئی وصیت کو یاد رکھتے ہیں، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خم غدیر میں دو مرتبہ یہ وصیت فرمائی تھی: ((أُذَکِّرُکُمُ اللّٰہَ فِيْ أَہْلِ بَیْتِيْ )) [2] [میں اپنے اہلِ بیت کے بارے میں تمھیں اللہ کی یاد دلاتا ہوں] دوسری حدیث میں عباس رضی اللہ عنہ کو سامنے رکھتے ہوئے فرمایا ہے: [1] صحیح البخاري، رقم الحدیث (۳۴۷۰) صحیح مسلم، رقم الحدیث (۲۵۴۰) [2] صحیح مسلم، رقم الحدیث (۲۴۰۸)