کتاب: مجموعہ رسائل عقیدہ(جلد3) - صفحہ 535
فواحش کا حکم نہیں دیتا ۔وہ بندوں سے کفر کو پسند کرتا ہے نہ فساد ہی کو پسند کرتا ہے۔ بندے حقیقت میں فاعل افعال ہیں، لیکن ان کے افعال کا خالق اللہ عزوجل ہے۔ بندے دو طرح کے ہوتے ہیں: مومن و کافر اور بر و فاجر۔ بندے کو اپنے فعل پر قدرت حاصل ہے اور وہ ارادہ کرتا ہے، لیکن اس قدرت و ارادے کا خالق اللہ سبحانہ و تعالیٰ ہے نہ کہ بندہ۔ عامہ قدریہ اس درجے کی تکذیب کرتے ہیں اور یہ وہ لوگ ہیں کہ جن کا نام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (( مَجُوْسُ ھٰذِہِ الْأُمَّۃِ )) [اس امت کے مجوسی] رکھا ہے۔ [1] اہلِ اثبات سے ایک دوسری قوم نے اس باب میں اتنا غلو کیا ہے کہ بندے سے بالکل قدرت و اختیار سلب کر لیا اور اسے اللہ کے افعال واحکام اور حکم و مصالح سے باہر کر دیا۔ بالجملہ حق یہ ہے کہ تقدیر کا ظاہر وباطن، محبوب ومکروہ، حسن وسییٔ، قلیل وکثیر اور اول وآخر سب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اور یہ اسی کی قضا وقدر ہے۔ بندوں میں سے کوئی فرد وبشر اللہ عزوجل کی مشیت وقضا سے تجاوز نہیں کرتا، بلکہ سب اسی کی طرف رواں دواں ہیں جس کے لیے وہ پیدا کیے گئے ہیں۔ سب اسی کام میں مصروف ہوتے ہیں جو ان پر مقدر کیا گیا ہے، یہ اللہ ذوالجلال والاکرام کا عدل و انصاف ہے۔ سارے کبائر وصغائر اللہ جل جلالہ کی قضا وقدر سے ہوتے ہیں، کسی کے لیے اللہ تعالیٰ پر کوئی حجت نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے علم سابق میں جانتا تھا کہ ابلیس قیامت تک نافرمانی کرے گا۔ اس نے اہلِ طاعت سے طاعت اور اہلِ معصیت سے معصیت معلوم کر کے ان کو پیدا کیا۔ جو مصیبت انھیں پہنچی ہے وہ اس سے چوکنے والے نہ تھے اور جو انھیں نہیں پہنچی وہ انھیں پہنچنے والی نہ تھی۔ شفاعت کا بیان: محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ، احمد مجتبیٰ صلی اللہ علیہ وسلم خیر خلائق، افضل بشر، اکرم علی اللہ، اعلی درجات کے حامل اور اللہ کی طرف سب سے قریبی ذریعہ ہیں۔ اللہ جل وعلا نے انھیں رحمۃ للعالمین، خاتم النبیین اور شفیع المذنبین بنا کر بھیجا۔ ہر نبی ایک خاص قوم کے لیے ہوتا تھا، مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ساری مخلوق کے نبی ہیں۔ جنت میں سب سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور امتوں سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت جائے گی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک شفاعت تو وہ ہو گی کہ لوگ سب انبیا کے پاس سے ہو کر پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے طالبِ شفاعت ہوں گے۔ دوسری وہ شفاعت ہو گی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اہلِ جہنم کی شفاعت کر کے انھیں جنت میں داخل کرائیں گے، [1] سنن أبي داؤد، رقم الحدیث (۴۶۹۱)