کتاب: مجموعہ رسائل عقیدہ(جلد3) - صفحہ 529
وسط ہے۔ صفات کے بارے میں یہ فرقہ اہلِ تعطیل جہمیہ اور اہلِ تمثیل مشبہہ کے درمیان میں ہے۔ جس طرح یہ فرقہ حق تعالیٰ کے افعال کے بارے میں حروریہ اور قدریہ کے درمیان فرقہ وسط ہے۔ اسماے حسنیٰ، ایمان اور دین کے بارے میں معتزلہ اور مرجیہ کے درمیان وسط ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے بارے میں رافضہ اور خوارج کے درمیان فرقہ وسط ہے، و للّٰہ الحمد۔ صفتِ کلام: اہلِ حق کا وہ مذہب، جس پر سارے اہلِ توحید وصدق کا اتفاق ہے، یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیشہ سے مسموع، مفہوم اور مکتوب کلام کے ساتھ متکلم ہے۔ اس کا یہ پاک کلام سینوں میں محفوظ ہے، جیسے ارشادِ الٰہی ہے: ﴿ بَلْ ھُوَ اٰیٰتٌم بَیِّنٰتٌ فِیْ صُدُوْرِ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ﴾[العنکبوت: ۴۹] [بلکہ یہ تو واضح آیات ہیں ان لوگوں کے سینوں میں جنھیں علم دیا گیا ہے] یہ مصاحف میں لکھا ہوا ہے اور آنکھوں سے دکھائی دیتا ہے۔ چنانچہ فرمانِ باری تعالیٰ ہے: ﴿وَکِتٰبٍ مَّسْطُوْرٍ * فِیْ رَقٍّ مَّنْشُوْرٍ﴾[الطور: ۲،۳] [اور ایک کتاب کی (قسم) جو لکھی ہوئی ہے، ایسے ورق میں جو کھلا ہوا ہے] خلف کے مقتدا سلف نے اس بات پر اجماع کیا ہے کہ اللہ کا کلام مخلوق نہیں ہے۔ سیدنا علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’القرآن لیس بمخلوق، ولکنہ کلام اللّٰہ ، منہ بدأ وإلیہ یعود‘‘[1] [قرآن مجید مخلوق نہیں ہے، لیکن وہ اللہ کا کلام ہے، اسی سے اس کی ابتدا ہوئی اور اسی کی طرف یہ لوٹے گا] سیدنا عبد اللہ بن مسعود، عبد اللہ بن عباس، عمرو بن دینار اور سفیان بن عیینہ رضی اللہ عنہم وغیرہ کا بھی یہی قول ہے۔ [2] اللہ عزوجل نے واقعی اس کے ساتھ کلام کیا ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر اسے نازل فرمایا ہے۔ اسے اللہ جل وعلا کے کلام کی حکایت کہنا درست نہیں ہے۔ قرائت اور کتابت اسے کلام اللہ [1] اعتقاد أھل السنۃ للالکائي (۲/۲۳۰) [2] دیکھیں: شرح أصول اعتقاد أھل السنۃ للالکائي (۲/۲۲۷)