کتاب: مجموعہ رسائل عقیدہ(جلد3) - صفحہ 528
ساتھ ثابت ہے [1] حق تعالیٰ کے علو و فوق پر بہت بڑی دلالت ہے۔ رہا یہ سوال کہ اللہ تعالیٰ عرش پر کیسے مستوی ہوا اور وہ کیسے نازل ہوتا ہے تو یہ بدعت ہے۔ اور جس کسی شخص کو یہ گمان ہے کہ نصوصِ صفات معقول المعنی نہیں ہیں اور اللہ جانے کہ ان سے کیا مراد ہے، ظاہر ان نصوص وظواہر کا تشبیہ و تمثیل ہے، ان کے ظواہر کے مطابق ایمان لانا کفر وضلال ہے، ان کی کوئی تاویل وتوجیہ ہے جسے اللہ ہی جانتا ہے اور یہ کہیعص کی مثل ہیں۔ وہ یہ خیال کرے کہ سلف کا طریقہ اسی طرح پر تھا، وہ مذکورہ الفاظ کے حقائق کو جاننے والے نہ تھے چنانچہ یہ گمان کرنے والا لوگوں میں سے سب سے زیادہ سلف کے عقیدے سے جاہل ہے اور راہِ ہدایت سے سخت گمراہ ہے۔ اس کا گمان اس بات کو متضمن ہے کہ سارے سابقین اولین یعنی مہاجرین وانصار اور سارے کبار صحابہ کرام رضی اللہ عنہم جاہل بے علم تھے، حالانکہ وہ اعلم ملت، افقہ ملت، احسن العمل اور اتبع للسنن تھے۔ اس گمان سے یہ بھی لازم آتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کلام کرتے اور اس کے معنی نہ سمجھتے، حالانکہ یہ بہت بڑی خطا وجراَت اور نہایت قبیح جسارت ہے، عیاذاً باللّٰہ منہ۔ صفاتِ الٰہیہ کا بیان: من جملہ صفاتِ الٰہیہ کے، جو کتاب وسنت سے ثابت ہیں، صفات ذیل ہیں: ید، یمین، کف، اصبع، شمال، قدم، رجل، وجہ، نفس، عین، نزول، اتیان، مجی، قول، ساق، حقو،جنب، فوق، استوا، قوت، قرب، بعد، ضحک، تعجب، حب، کراہت، مقت، رضا، غضب، سخط، علم، حیات، قدرت، ارادہ، مشیت، سمع، بصر، فوق، معیت، فرح اور اس کے علاوہ دیگر صفات۔ رسالہ ’’القائد إلی العقائد‘‘ میں استقرائً صفات کے جملہ الفاظ مرقوم ہیں اور کتاب ’’الجوائز والصلات من جمع الأسامي والصفات‘‘ میں صفات مذکورہ کے دلائل تفصیل کے ساتھ درج کیے گئے ہیں۔ ہماری کتاب ’’الانتقاد الرجیح بشرح الاعتقاد الصحیح‘‘ میں اللہ تعالیٰ کے علو کے دلائل مذکور ہیں۔ ان ساری صفات کو ایک طرز پر رکھ کر ان سب پر ایمان لانا واجب ہے۔ یہ سب حقیقی صفات ہیں جو صفاتِ مخلوقہ کے ساتھ مشابہ نہیں ہیں۔ ان صفات کے ظاہر کی تاویل، تعطیل، رد اور جحد درست نہیں ہے۔ فرقہ ناجیہ اہلِ سنت وجماعت تحریف، تمثیل اور تکییف کے بغیر ان سب پر ایمان رکھتے ہیں۔ یہ فرقہ امتِ اسلام کے تمام فرقوں میں سے فرقہ وسط ہے جس طرح یہ امت ساری امتوں میں امت [1] صحیح البخاري، رقم الحدیث (۳۴۲) صحیح مسلم، رقم الحدیث (۱۶۴)